Friday 15 June 2012

Allegation about Khatam ul Aulaad and Khatam ul Nabiyyen - Explained

غیر احمدی اعتراض کرتے ہیں کہ سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے لئے ’’خاتم الاولاد ‘‘ کا لفظ استعمال کیا اور وہاں خود کو اپنے والدین کی آخری اولاد قرار دیا تو احمدی لوگ ’’خاتم النبیین ‘‘ کا مطلب آخری نبی کیوں نہیں لیتے۔ اس کے تین جواب ہیں۔
(۱) حضور علیہ السلام نے یہ بات اردو میں کی ہے عربی میں نہیں۔ ار
دو میں خاتم ختم کرنے والے کو کہتے ہیں۔
(۲) جماعت احمدیہ ’’خاتم النبیین ‘‘ کا ترجمہ نبیوں کی مہر کرتی ہے۔یعنی اب جو بھی نبی بنے گا وہ نبی اکرم ﷺ کی مہر لگ کر بنے گا۔ اس لحاظ سے ’’خاتم الاولاد ‘‘ کا مطلب ہے کہ اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والدین کی جو نسل چلے گی وہ حضور ؑ سے ہی چلے گی۔ چنانچہ ایک تو یہ کہ آپ کا دوسرا کوئی بھائی بہن زندہ نہ رہا اور جو زندہ رہا یعنی مرزا غلام قادر صاحب وہ بے اولاد فوت ہوئے۔ انہوں نے حضور ؑ کے صاحبزادے مرزا سلطان احمد صاحب کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔
(۳) غیر احمدی معترضین یہ مانتے ہیں کہ عربی میں خاتم اگر ت کی زبر سے لکھا جائے تو اس کا مطلب مہر ہوتا ہے اور اگر ت کی زیر سے لکھا جائے تو اس کا مطلب آخری یا ختم کرنے والا ہوتا ہے۔ اگر ان کا اعتراض یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے اپنی اس عبارت میں لفظ ’’خاتم الاولاد‘‘ عربی میں لکھا ہے تو اس بات کا ان کے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہاں خاتم ت کی زبر سے لکھا گیا ہے یا زیر سے۔ ویسے سیاق و سباق بتارہا ہے کہ حضور علیہ السلام خود کو اپنے والدین کی آخری اولاد قرار دے رہے ہیں تو لا محالہ یہاں پر خاتم ت کی زیر سے لکھا گیا ہوگا یا کم از کم اس کو ت کی زیر سے ہی پڑھا جائے گا۔ تو پھر اعتراض کیا باقی رہا؟
حاصل کلام: اگر خاتم الاولاد اور خاتم النبیین ایک ہی طرح کے دو الفاظ مانے جائیں تو سیاق و سباق کے مطابق یہ ماننا پڑے گا کہ خاتم الاولاد میں خاتم ت کی زیر کے ساتھ جبکہ خاتم النبیین میں ت کی زبر کے ساتھ لکھا اور پڑھا جاتا ہے
۔

Wednesday 13 June 2012

معاندین احمدیت خاص کرمجلس احرار کی طرف سے باربار الزام لگایا جاتا ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام نے انگریز کی خوشامد

معاندین احمدیت خاص کرمجلس احرار کی طرف سے باربار الزام لگایا جاتا ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام نے انگریز کی خوشامد

by Kashif Ali on Tuesday, June 12, 2012 at 5:01pm ·
معاندین احمدیت خاص کرمجلس احرار کی طرف سے باربار الزام لگایا جاتا ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام نے انگریز کی خوشامد کی اور اس غرض سے تریاق القلوب ۔ کتاب البریہ ۔ نورالحق اور تبلیغ رسالت کے حوالجات پیش کئے جاتے ہیں ۔ ذیل کی سطور میں ان کے اس الزام کا کسی قدر تفصیل سے جواب عرض کیا گیا ہے ۔


1 نمبر
خوشامد کی تعریف 
افسوس ہے کہ معترضین حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام پر خوشامد کا الزام لگاتے وقت ایک ذرہ بھی خدا کا خوف نہیں کرتے کیونکہ اول تو آپ کی تحریرات کے اس حصہ پر جس میں انگریزی حکومت کے ماتحت مذہبی آزادی حکومت کی مذہبی امور میں غیر جانبدار ی اور قیام امن و انصاف کے لئے عادلانہ قوانین کے نفاذ کی تعریف کی گئی ہے ۔ لفظ ”خوشامد“ کا اطلاق نہیں ہو سکتا ظاہر ہے کہ بر محل سچی تعریف کو” خوشامد“ نہیں کہہ سکتے ۔ بلکہ” خوشامد“ جھوٹی تعریف کو کہتے ہیں ۔ جو کسی نفع کے حصول کی غرض سے کی جائے ۔ پس مرزا صاحب پر انگریز کی خوشامد کا الزام لگانے والوں پر لازم ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ آپ نے انگریز ی حکومت کے بارے میں جو تعریفی الفاظ استعمال فرمائے وہ حقیقت پر مبنی نہ تھے بلکہ خلاف واقعات تھے اوریہ کہ آپ نے انگریز سے فلاں نفع حاصل کیا ، لیکن ہم یہ بات پورے وثوق اور کامل تحدی سے کہہ سکتے ہیں اور مخالف سے مخالف بھی ضرور یہ اقرار کرنے پر مجبور ہو گا کہ حضرت مرزا صاحب نے انگریزی حکومت کے دور میں مذہبی آزادی ، تبلیغ کی آزادی اور قیام امن و انصاف کی جو تعریف فرمائی ۔ وہ بالکل درست تھی ۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جو مذہبی آزادی انگریزی نظام کے ماتحت رعایا کو حاصل تھی ۔ اس کی مثال موجودہ زمانہ میں کسی اور حکومت میں پائی نہیں جاتی ۔


حضرت سید احمد بریلوی کے ارشادات
چنانچہ حضرت سید احمد بریلوی مجد د صدی سیز دہم ؒ نے بھی انگریزی حکومت کے اس قابل تعریف پہلو کی بے حد تعریف فرمائی ہے ۔
فرماتے ہیں :۔
۔ (۱) ”سرکار انگریزی کہ او مسلمان رعایائے خود را برائے ادائے فرض مذہبی شان آزادی بخشیدہ است‘‘۔
(سوانح احمدی مصنفہ مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری ص115)

۔ (۲) ”سرکار انگریزی مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدی نہیں کرتی اور نہ ان کو فرض مذہبی اور عبادت لازمی سے روکتی ہے ہم ان کے ملک میں علانیہ وعظ کرتے اور ترویج مذہب کرتے ہیں وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی بلکہ اگر کوئی ہم پر زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کو تیار ہے“۔
(سوانح احمدی ص45)

۔ (۳)۔”سید صاحب (حضرت سید احمد بریلوی)رحمة اللہ علیہ کا سرکار انگریزی سے جہاد کرنے کا ہرگز ارادہ نہیں تھا وہ اس آزاد عملداری کو اپنی عملداری سمجھتے تھے‘‘۔
( سوانح احمدی ص139)

۔(۴) حضرت مولانا سید اسماعیل صاحب شہید رحمة اللہ علیہ انگریزی حکومت کے متعلق فرماتے ہیں:۔
۔”ایسی بے رو و ریاء اور غیر متعصب سرکار کے خلاف کسی طرح بھی جہاد کرنا درست نہیں‘‘۔
(سوانح احمدی ص57)
غرضیکہ ان ہر دو قابل فخر مجاہد ہستیوں نے بھی انگریزی حکومت کی بعینہ وہی تعریف کی جو حضرت بانیء سلسلہ احمدیہ نے کی بلکہ حضرت سید احمد بریلوی ؒ تو حکومت انگریزی کو” اپنی ہی عملداری“ سمجھتے تھے ۔ کیا احراری شعبدہ باز جوش خطابت میں ان بزرگان اسلام پر بھی” انگریزی حکومت کی خوشامد“ کا الزام لگائیں گے؟

پس یہ حقیقت ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے انگریزی قوم کے حق میں جو کچھ لکھا وہ بطور خوشامد نہیں بلکہ بعینہ مبنی برصداقت تھا ۔ چنانچہ حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں:۔
۔(الف) ”بعض نادان مجھ پر اعتراض کرتے ہیں جیسا کہ صاحب ”المنار“ نے بھی کیا ہے کہ یہ شخص انگریزوں کے ملک میں رہتا ہے۔ اس لئے جہاد کی ممانعت کرتا ہے یہ نادان نہیں جانتے کہ اگر میں جھوٹ سے اس گورنمنٹ کو خوش کرنا چاہتا تو میں بار بار کیوں کہتا کہ عیسیٰ بن مریم صلیب سے نجات پاکر اپنی طبعی موت سے بمقام سری نگر مر گیا اور نہ وہ خدا تھا ۔نہ خدا کا بیٹا ۔ کیا انگریز مذہبی جوش رکھنے والے میرے اس فقرہ سے ناراض نہیں ہونگے ؟ پس سنو اے نادانو ! میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسی گورنمنٹ سے جو دین اسلام اور دینی رسوم پر کچھ دست اندازی نہیں کرتی اور نہ اپنے دین کو ترقی دینے کے لئے ہم پر تلوار چلاتی ہے ۔ قرآ ن شریف کی رو سے مذہبی جنگ کرنا حرام ہے‘‘۔
(کشتی نوح حاشیہ ص68)

۔ (ب)۔” یہ گورنمنٹ مسلمانوں کے خونوں اور مالوں کی حمایت کرتی ہے اور ہر ایک ظالم کے حملہ سے ان کو بچاتی ہے …… میں نے یہ کام گورنمنٹ سے ڈر کر نہیں کیا اور نہ اس کے کسی انعام کا امید وار ہو کرکیا ہے ۔ بلکہ یہ کام محض للہ اور نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق کیا ہے‘‘ ۔
(نور الحق حصہ اول ص29،30طبع اول)

۔ (ج)۔’’ بے شک جیسا کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا صرف اسلام کو دنیا میں سچا مذہب سمجھتا ہوں، لیکن اسلام کی سچی پابندی اسی میں دیکھتا ہوں کہ ایسی گورنمنٹ جو درحقیقت محسن اور مسلمانوں کے خون اور مال کی محافظ ہے اس کی سچی اطاعت کی جائے میں گورنمنٹ سے ان باتوں کے ذریعہ سے کوئی انعام نہیں چاہتا ۔میں اس سے درخواست نہیں کرتا کہ اس خیر خواہی کی پاداش میں میرا کوئی لڑکا کسی معزز عہدہ پر ہوجائے ‘‘۔
(اشتہار21اکتوبر1899ء )
(تبلیغ رسالت جلد 4ص49)

۔(د) ۔”میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ اپنی متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں ۔کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا“۔
 (تبلیغ رسالت جلد 7ص10)

۔ (ھ) ۔ میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا جیسا کہ نادان لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس سے کوئی صلہ چاہتا ہوں بلکہ میں انصاف اور ایمان کی رو سے اپنا فرض دیکھتا ہوں کہ اس گورنمنٹ کا شکریہ ادا کروں ‘‘۔
(تبلیغ رسالت جلد10ص123)



آپ یا آپ کی اولاد نے حکومت سے کوئی نفع حاصل نہیں کیا 
ان تحریرات سے واضح ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے انگریزکے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا وہ کسی لالچ یا طمع یا خوف کے زیر اثر نہیں تھا اور یہ محض دعویٰ ہی نہیں بلکہ اس کو واقعات کی تائید بھی حاصل ہے کیونکہ یہ امر واقعہ ہے اور کوئی بڑے سے بڑا دشمن بھی یہ نہیں کہہ سکتا حضرت مرزا صاحب یا حضور کے خلفاء میں سے کسی نے گورنمنٹ سے کوئی مربعہ یا جاگیر حاصل کی یا کوئی خطاب حاصل کیا بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت بانیء سلسلہ احمدیہ کے خلاف عیسائی پادریوں نے اور بعض اوقات حکومت کے بعض کارندوں نے بھی آپ اورآپ کی جماعت کو نقصان پہنچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا پس جب یہ ثابت ہے کہ حضور نے کوئی مادی فائدہ گورنمنٹ انگریزی سے حاصل نہیں کیا۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آپ نے انگریزی حکومت کی غیرجانبداری اور امن پسندی اور مذہب میں عدم مداخلت کی پالیسی کے حق میں جو کچھ لکھا وہ مبنی بر حقیقت تھا تو پھر آ پ پر ”خوشامد“کا الزام لگانامحض تعصب اور تحکم نہیں تو اور کیا ہے؟

زور دار الفاظ میں تعریف کی وجہ
اس جگہ ایک سوال ہوسکتا ہے کہ گو یہ درست ہے کہ جو کچھ حضرت مرزا صاحب نے انگریزی حکومت کے حق میں لکھا وہ خلاف واقعہ نہ تھا۔ لیکن پھر بھی حضرت مرزا صاحب کو اس قدر زور سے بار بار انگریز کی تعریف کرنے کی ضرورت کیا تھی ؟آ پ خاموش بھی رہ سکتے تھے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وسوسہ صرف ان ہی لوگوں کے دل میں پیدا ہوسکتا ہے جن کو اس پس منظر کا علم نہیں جس میں وہ تحریرات لکھی گئیں۔

پس منظر
اس ضمن میں سب سے پہلے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ 1857ء کے سانحہ کے حالات اور تفصیلات کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے وہ زمانہ کس قدر ابتلاء اور مصائب کا زمانہ تھا وہ تحریک ہندووٴں کی اٹھائی ہوئی تھی لیکن اس کو جنگ آزادی کا نام دیا گیا اور یہ اثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس میں ہندوستانی مسلمان بھی من حیث القوم پس پردہ شامل ہیں۔سلطنتِ مغلیہ کے زوال کے بعد انگریزوں نے زمامِ حکومت اپنے ہاتھ میں لی تھی۔ اس لئے نئی حکومت کے دل میں متقدم حکومت کے ہم قوم لوگوں کے بارہ میں شکوک و شبہات کا پیدا ہونا ایک طبعی امر تھا اس پر1857ء کا حادثہ مستزاد تھا ۔دوسری طرف ہندو قوم تھی جو تعلیم و تربیت ۔صنعت و حرفت ۔سیاست و اقتصاد غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں مسلمانوں پر فوقیت رکھتے تھے مسلمانوں کا انہوں نے معاشرتی بائیکاٹ کر رکھا تھا وہ مسلمانوں کے سیاسی زوال سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کے منصوبے سوچ رہے تھے یہ دور ہندوستانی مسلمانوں کے لئے نازک تریں دور تھا ۔پنجاب میں انگریزی تسلط سے پہلے سکھ دور کے جبر و استبداد اور وحشیانہ مظالم کی داستان حد درجہ المناک ہے ۔مسلمانوں کو اس زمانہ میں انتہائی صبر آزما حالات سے گذرنا پڑا انہیں جبراً ہندو یا سکھ بنا یاگیا۔ اذانیں حکمًاممنوع قرار دی گئیں مسلمان عورتوں کی عصمت دری مسلمانوں کا قتل اور ان کے سازوسامان کی لوٹ مار سکھوں کا روز مرہ کا مشغلہ تھا۔سکھوں کے انہی بے پناہ مظالم کے باعث مجدد صدی سیزدہم (تیرھویں 13) حضرت سیداحمد بریلوی رحمة اللہ علیہ کو ان کے خلاف علَم جہاد بلند کرنا پڑا۔
پس ایک طرف ہندو قوم کی ریشہ دوانیاں ۔مسلمانوں کا اقتصادی بائیکاٹ ۔مسلمانوں پر انکا علمی سیاسی اور اقتصادی تفوّق اور ان کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کے منصوبے اور اس کے ساتھ ساتھ سکھوں کے جبر و استبداد اور وحشیانہ مظالم کے لرزہ خیز واقعات تھے ان حالات میں انگریزی دور حکومت شروع ہوا۔ انگریزوں نے اپنی حکومت کی ابتداء اس اعلان سے کی کہ رعایا کے مذہبی معاملات میں نہ صرف حکومت کی طرف سے کوئی مداخلت ہوگی ۔بلکہ دوسری قوموں کی طرف سے بھی ایک دوسرے کے مذہبی معاملات میں مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔ ایسے قانون بنادئیے گئے جن کے نتیجہ میں رعایا کے باہمی تنازعات کا فیصلہ عدل وانصاف سے ہونے لگا۔ ہندووٴں اور سکھوں کی مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں کے آگے حکومت حائل ہوگئی اور سکھوں کے جبر واستبداد سے بالخصوص پنجابی مسلمانوں کو اس طرح نجات مل گئی گویا کہ وہ ایک دہکتے ہوئے تنور سے یکدم باہر نکل آئے۔

قرآن مجید کی واضح ہدایت
ایک طرف دو مشرک قومیں( ہندو اورسکھ) مسلمانوں کے خون کی پیاسی تھیں۔ تو دوسری طرف ایک عیسائی حکومت تھی جس کے ساتھ تعاون یا عدم تعاون کا فیصلہ مسلمانوں کو کرنا تھا۔ ان حالات میں مسلمانوں کے لئے قرآن مجید کی اس تعلیم پر عمل کرنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہ تھا کہ ”لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةًلِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الْیَھُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَھُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الَّذِیْنَ قَالُوْااِنَّا نَصَارٰی“(المائدة: 83)ترجمہ:۔ یقینا یقیناتو دیکھے گا کہ مسلمانوں کے بدترین دشمن یہودی اور مشرک ہیں اور یقینا یقینا تو دیکھے گا کہ دوستی اور محبت کے لحاظ سے سب سے زیادہ مسلمانوں کے قریب عیسائی کہلانے والے ہیں۔
اس واضح حکم میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی تھی کہ یہود یا ہنود اگر ایک طرف ہوں اور دوسری طرف عیسائی ہوں تو مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی دوستی اور مودة کا ہاتھ عیسائیوں کی طرف بڑھائیں۔ چنانچہ عملاً یہی مسلمانوں نے کیا اور ہمیں یقین ہے کہ اگر یہ قرآنی تعلیم مشعل راہ نہ ہوتی تو پھر بھی مسلمانوں کا مفاد اسی میں تھا۔ اور یہی حالات کا اقتضاء تھا کہ ہندووٴں اور سکھوں کے مقابلہ میں انگریزوں کے ساتھ تعاون کرتے اور انگریزوں کی مذہبی رواداری سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندووٴں کے تباہ کن منصوبوں سے محفوظ رہ کر اپنی پر امن تبلیغ مساعی کے ذریعہ سے اپنی تعدادبڑھانے کی کوشش کرتے ۔ بعد کے حالات کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انگریزی عملداری کے ابتداء میں مسلمانوں کی تعداد بر عظیم ہندو پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب تھی، لیکن انگریزوں کے انخلاء ( 1947ء) کے وقت مسلمانوں کی تعداد دس کروڑ تھی ۔ گویا کہ تین صدیوں کی اسلامی حکومت کے دوران میں جس قدر مسلمانوں کی تعداد تھی صرف ایک صدی سے بھی کم زمانے میں اس سے دس گناہ بڑھ گئی ۔ چنانچہ سر سید احمد خان صاحب علی گڑھی، مولانا شبلی نعمانی، نواب محسن الملک بہادر ،نواب صدیق حسن خاں صاحب اور دوسری عظیم الشان شخصیتوں نے دور اول میں اور قائد اعظم محمد علی جناح نے دورآخر میں ہندو کی غلامی پر انگریز کیسا تھ تعاون کو ترجیح دی ۔ اور مندرجہ بالا قرآنی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے انگریزوں کی طرف دست تعاون بڑھایا۔ سر سید مرحوم نے انگریزی حکومت کو مسلمانوں کی وفاداری کا یقین دلانے کے لئے متعدد کتب ورسائل تصنیف کئے۔ مسلمانوں کی مغربی علوم میں ترقی کے لئے شبانہ روز کوششیں کیں جن کا نمونہ علیگڑھ یونیورسٹی کی صورت میں موجود ہے ۔ چنانچہ احمدیت کے ذلیل ترین معاند اخبار”زمیندار“لاہور کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا۔ کہ ان دنوں سیاست کا تقاضا یہی تھا کہ انگریز کی حمایت کی جاتی‘‘۔
( زمیندار ۵۲/ ۱۱/ ۲۷ ص3کالم5)

مہدی سوڈانی
پھر یہ بات بھی مد نظر رکھنی ضروری ہے کہ مہدی سوڈانی کی تحریک 1879ءاور اس کے برطانوی حکومت کے ساتھ تصادم کے باعث انگریزی قوم کے دل و دماغ پر یہ چیز گہرے طور پر نقش ہو چکی تھی۔ کہ ہر مہدویت کے علمبردار کے لئے ضروری ہے کہ وہ تیغ و سناں کو ہاتھ میں لے کر غیر مسلموں کو قتل کرے۔


حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ مہدویت
یہی وہ دور تھا جس میں حضرت مرز صاحب نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے مامور ہو کر مسیح اور مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا ۔قرآنی تعلیم کے پیش نظر آپ اگرچہ حکومت انگریزی کے ساتھ تعاون اور وفاداری کو ضروری سمجھتے تھے ،لیکن بد قسمتی سے دور انحطاط کے مسلمان علماء نے مہدی موعود کا یہ غلط تصور دنیا کے سامنے پیش کر رکھا تھا کہ وہ آتے ہی جنگ و پیکار کا علم بلند کر دیگا اور ہاتھ میں تلوار لے کر غیر مسلموں کو قتل کریگا اور بزور شمشیر اسلامی حکومت قائم کردیگا۔ اس لئے اور مہدی سوڈانی کا تازہ واقعہ اس کا ایک بین ثبوت تھا اس لئے جب آپ نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تو ضروری تھا کہ انگریزی حکومت آپ اورآپ کی تحریک کو شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھتی ، لیکن اس پر مستزاد یہ ہوا کہ مخالف علماء نے جہاں ایک طرف اولیاء امت کی پیشگوئیوں کے عین مطابق ( کہ امام مہدی پر علمائے وقت کفر کا فتویٰ دیں گے) آپ ؑپر کفر کا فتویٰ لگا کر مسلمانوں میں آپ کے خلاف اشتعال پھیلایا۔ تو دوسری طرف حکومت انگریزی کو بھی یہ کہہ کر اکسایا کہ یہ شخص امام مہدی ہونے کا دعویدار ہے۔ در پردہ حکومت کا دشمن ہے اور اندر اندر ایک ایسی جماعت تیار کر رہا ہے۔ جو طاقت پکڑتے ہی انگریزی حکومت کے خلاف علم ِ بغاوت بلند کر دیگی ۔پھر نہ صرف یہ کہ یہ جھوٹا پراپگنڈہ مخالف علماء کی طرف سے کیا گیا۔ بلکہ عیسائیوں پادریوں کی طرف سے بھی حکومت کے سامنے اور پریس میں بار بار یہ الزام لگایا گیا کہ یہ شخص مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا اراداہ یہ ہے کہ خفیہ طور پر ایک فوج تیار کر کے گورنمنٹ انگریزی کے خلاف مناسب موقع پر اعلان جنگ کر دے ۔ دراصل یہ شخص اور اس کی جماعت حکومت انگریزی کے”غدار“ ہیں۔ اور ان کا وجود انگریزی حکومت کے لئے سخت خطرناک ہے۔ چونکہ یہ الزامات محض بے بنیاد اور بے حقیقت تھے اس لئے حضرت مرزا صاحب کے لئے ضروری تھا کہ ان کی پر زور الفاظ میں تردید فرما کر حقیقت حال کو آشکار ا کرتے۔



تعریفی عبارتیں بطور”ذب“ تھیں نہ بطور”مدح“۔
پس تعریفی الفاظ بطور مدح نہ تھے بلکہ بطور” ذب“ یعنی بغرض رفع التباس تھے۔
۔ (۱)۔ اس کی مثال قرآن مجید میں بھی موجود ہے۔ قرآن مجید میں حضرت مریم ؑ کی عفت اور عصمت کی بار بار اور زور دار الفاظ میں تعریف بیان کی گئی ہے لیکن آنحضرت ﷺ کی والدہ ماجدہ اور حضور ﷺ کی مقدس صاحبزادی حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنھا کی عفت اورعصمت کا قرآن کریم میں خصوصیت کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا۔ حالانکہ وہ اپنی عفت اور عصمت کے لحاظ سے حضرت مریم ؑ سے کسی رنگ میں بھی کم نہیں ہیں بلکہ حضرت فاطمة الزہرا ؓ اپنے مدارج عظمت کے لحاظ سے حضرت مریم ؑ سے افضل ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد”فَاطِمَةُ سَیَّدَةُ النِّسَاءِ اَھْلِ الْجَنَّةِ‘‘۔
(بخاری کتاب المناقب باب مناقب قرابة رسول اللہ ﷺ و منقبة فاطمة جلد 2ص191)

۔ (۲) لیکن ظاہر ہے کہ حضرت مریم صدیقہ ؑ کی پاکیزگی اور عفت و عصمت کا قرآن کریم میں بار بار زور دار الفاظ میں ذکر ہونا اور ان کے مقابل پر حضرت فاطمة الزہرا اور آنحضرت ﷺ کی والدہ ماجدہ کا قرآن مجید میں ذکر نہ ہونا ہر گز ہرگز اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ حضرت مریم کو ان پر کوئی فضیلت حاصل تھی ۔کیونکہ حضرت مریم پر زنا اوربدکاری کی تہمت لگی ۔اس لئے ان کی بریت اور رفع التباس کے لئے بطور ”ذب“ ان کی تعریف کی ضرورت تھی۔ مگر چونکہ حضرت فاطمة الزہراؓ اور آنحضرت ﷺ کی والدہ ماجدہ پر ایسا کوئی الزام نہ تھا۔ اس لئے باوجود ان کی عظمت شان کے ان کی تعریف و توصیف کی ضرورت نہ تھی ۔ بعینہ اسی طرح چونکہ حضرت مرزا صاحب پر آپ کے مخالفین کی طرف سے آ پ علیہ السلام کے دعویٰ مہدویت کے باعث حکومت سے غداری اور اس کے خلاف تلوار کی لڑائی کی خفیہ تیاریوں کا الزام تھا۔ اس لئے ضروری تھا کہ اظہار حقیقت کے لئے زور دار الفاظ میں ان الزامات کی تردید کی جاتی ۔


احراریوں کی پیشکردہ عبارتوں پر تفصیلی بحث
سول اینڈ ملٹری گزٹ (جو انگریزی حکومت کا ایک مشہور آرگن تھا ) کی اشاعت ستمبر، اکتوبر1894ء میں ایک مضمون شائع ہوا۔ جس میں لکھا گیا کہ یہ ”شخص گورنمنٹ انگریزی کا بد خواہ اور مخالفانہ ارادے اپنے دل میں رکھتا ہے۔“ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کا ذکر اپنے اشتہار 10دسمبر1894ء مطبوعہ تبلیغ رسالت جلد3ص192،193میں کر کے اس کی تردید فرمائی یہی وہ اشتہار ہے جس کی جوابی عبارتوں کا حوالہ احراری معترضین دیا کرتے ہیں ،لیکن بددیانتی سے اس اشتہارکی مندرجہ ذیل ابتدائی سطور کو حذف کر دیتے ہیں ۔
۔ ”سول ملٹری گزٹ کے پرچہ ستمبر یا اکتوبر1894ء میں میری نسبت ایک غلط اور خلاف واقعہ رائے شائع کی گئی جس کی غلطی گورنمنٹ پر کھولنا ضروری ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ صاحب راقم نے اپنی غلط فہمی یا کسی اہل غرض کے دھوکہ دینے سے ایسا اپنے دل میں میری نسبت سمجھ لیاہے کہ گورنمنٹ انگریزی کا بد خواہ اور مخالفانہ ارادے اپنے دل میں رکھتا ہوں،لیکن یہ خیال ان کا سراسر باطل اور دور از انصاف ہے ‘‘۔………
۔”سکھوں کے زمانہ میں ہمارے دین اور دنیا دونوں پر مصیبتیں تھیں۔…… ان مصیبتوں سے اس گورنمنٹ کے عہد دولت نے ایک دم ہمیں چھوڑ ا دیا…… اور اگر ہم نے کسی کتاب میں عیسائی پادریوں کا نام دجال رکھا ہے یا اپنے تئیں مسیح موعود قرار دیا ہے تو اس کے وہ معنی مراد نہیں جو بعض ہمارے مخالف مسلمان سمجھتے ہیں ۔ ہم کسی ایسے دجال کے قائل نہیں جو اپنا کفر بڑھانے کے لئے خون ریزیاں کرے اور نہ کسی ایسے مسیح اور مہدی کے قائل ہیں جو تلوار کے ذریعہ سے دین کی ترقی کرے یہ اس زمانہ کے بعض کوتہ اندیش مسلمانوں کی غلطیاں ہیں جو کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کے منتظر ہیں اورچاہئے کہ گورنمنٹ ہماری کتابوں کو دیکھے کہ کس قدر ہم اس کے اعتقاد کے دشمن ہیں‘‘۔

۔ ”مجھے افسوس ہے کہ سول ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر کو ان واقعات کی کچھ اطلاع ہوتی تو وہ ایسی تحریر جو انصاف اور سچائی کے برخلاف ہے ہر گز شائع نہ کرتا ‘‘۔
(تبلیغ رسالت جلد3ص192تا199)

علاوہ ازیں شیخ محمد حسین بٹالوی نے کئی رسائل شائع کئے جن میں لکھا ہے کہ یہ شخص گورنمنٹ انگریزی کا” باغی“ ہے۔ چنانچہ اس کا ذکر حضرت مرزا صاحب نے مختلف کتب اور اشتہارات میں کیا ہے۔ چند عبارتیں ملاحظہ ہوں:۔
۔(۱) ”چونکہ شیخ محمد حسین بٹالوی اور دوسرے خود غرض مخالف واقعات صحیحہ کو چھپا کر عام لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ایسے ہی دھوکوں سے متاثر ہوکر بعض انگریزی اخبارات جن کو واقعات صحیحہ نہیں مل سکے ہماری نسبت اور ہماری جماعت کی نسبت بے بنیاد باتیں شائع کرتے ہیں سو ہم اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنی محسن گورنمنٹ اور پبلک پر یہ بات ظاہر کرتے ہیں کہ ہم ہنگامہ اور فتنہ کے طریقوں سے بالکل متنفر ہیں‘‘۔
(اشتہار ۲۷ فروری ۱۸۹۵ء تبلیغ رسالت جلد۴ ص۱)

پھر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں:۔
۔ ”آپ نے جو میرے حق میں گورنمنٹ کے باغی ہونے کا لفظ استعمال کیا ہے یہ شاید اس لئے کیا ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ نالش اور استغاثہ کرنے کی میری عادت نہیں ورنہ آپ ایسے صریح جھوٹ سے ضرور بچتے‘‘۔
(تبلیغ رسالت ۴ ص ۴۵ )
( تبلیغ رسالت جلد ۳ ص ۹۲)


تریاق القلوب کی ۵۰ الماریوں والی عبارت 
اسی طرح احراری معترضین تریاق القلوب ص۱۵ کی عبارت بھی خوشامد کے الزام کی تائید میں پیش کیا کرتے ہیں ۔ اس میں” پچاس الماریوں“ کے الفاظ کو خاص طور پر پیش کرتے ہیں لیکن جو شخص اصل کتاب نکال کر اس میں سے یہ عبارتیں پڑھے گا اسے فی الفور معلوم ہوجائیگا کہ حضرت مرزا صاحب علیہ السلام نے وہاں بھی انگریزی حکومت کی تائید میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ بطور” ذب“ کے ہے یعنی مخالفین کے الزام” بغاوت“ کی تردید میں لکھا ہے چنانچہ تریاق القلوب ص ۱۵کی وہ عبارت جسے احراری معترضین پیش کرتے ہیں اس سے پہلے یہ الفاظ ہیں:۔
۔ ”اور تم میں سے جو ملازمت پیشہ ہیں وہ اس کو شش میں ہیں کہ مجھے اس محسن سلطنت کا باغی ٹھہرا ئیں میں سنتا ہوں کہ ہمیشہ خلاف واقعہ خبریں میری نسبت پہنچانے کے لئے ہر طرح سے کوشش کی جاتی ہے حالانکہ آپ لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ میں باغیانہ طریق کا آدمی نہیں ہوں‘‘۔
(تریاق القلوب ص۱۵)
اس کے آگے وہ عبارت شروع ہوتی ہے جس کا حوالہ احراری معترضین دیا کرتے ہیں
نور الحق حصہ اول کی عبارت
احراری معترضین نور الحق حصہ اول کے ص۳۰ و ص۳۱کا حوالہ بھی اس الزام کی تائید میں پیش کرتے ہیں:۔لیکن جو شخص کتاب نور الحق کا ص۲۴پڑھیگا اس کو علم ہوجائے گا کہ یہ عبارتیں بھی پادری عماد الدین کی طرف سے عائد شدہ الزام بغاوت کے جواب میں لکھی گئیں۔چنانچہ حضور علیہ السلام ملکہ وکٹوریہ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:۔
۔ ”ایک شخص نے ایسے لوگوں میں سے جو اسلام سے نکل کر عیسائی ہوگئے ہیں یعنی ایک عیسائی جو اپنے تئیں پادری عماد الدین کے نام سے موسوم کرتا ہے ایک کتاب ان دنوں میں عوام کو دھوکہ دینے کے لئے تالیف کی ہے اور اس کا نام تورین الاقوال رکھا ہے اور اس میں ایک خالص افتراء کے طور پر میرے بعض حالات لکھے ہیں اوربیان کیا ہے کہ یہ شخص ایک مفسد آدمی اور گورنمنٹ کا دشمن ہے اور مجھے اس کے طریق چال چلن میں بغاوت کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں ۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ایسے ایسے کام کرے گا اور وہ مخالفوں میں سے ہے………اب ہم گورنمنٹ عالیہ کو ان باتوں کی اصل حقیقت سے مطلع کرتے ہیں جو ہم پر اس نے افتراء کیں اور گمان کیا کہ ہم دولت برطانیہ کے بد خواہ ہیں“۔
(نور الحق جلد۱ طبع اول ص۲۴،۲۵)

اس کے آگے وہ عبارتیں شروع ہوتی ہے جو احراری معترضین پیش کرتے ہیں۔ لیکن ص۳۰ طبع اول کی عبارت کو نقل کرنے میں یہ صریح تحریف اور بددیانتی کرتے ہیں کہ درمیان سے یہ عبارت حذف کر دیتے ہیں:۔
۔ ”اور میں نے یہ کام (گورنمنٹ سے تعاون کی تلقین) گورنمنٹ سے ڈر کر نہیں کیا اور نہ اس کے کسی انعام کا امیدوار ہوکرکیا ہے‘‘۔
(نور الحق جلد ۱ ص۳۰ طبع اول)

پس ظاہر ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی یہ سب عبارتیں بھی دشمن کے جھوٹے الزام کی تردید میں ہیں نہ کہ بطور ”خوشامد“جیسا کہ احراری معترضین ظاہر کرتے ہیں۔


کتاب البریہ کی عبارت
اب ہم کتاب البریہ ص۳ کی عبارت کو لیتے ہیں جو احراری معترضین کی طرف سے بار بار پیش کی جاتی ہے وہ ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے:۔
۔ ”یہ بھی ذکر کے لائق ہے کہ ڈاکٹر کلارک صاحب نے اپنے بیان میں کہیں اشارةً اور کہیں صراحتًا میری نسبت بیان کیا ہے کہ گویا میرا وجود گورنمنٹ کے لئے خطرناک ہے‘‘۔
(کتاب البریہ ص۳)
یاد رہے کہ پادری مارٹن کلارک ایک بہت بڑا عیسائی پادری تھا اور انگریز حکام اس کی عزت کرتے تھے اس نے حضرت بانی ء سلسلہ احمدیہ پر اقدام قتل کا ایک جھوٹا استغاثہ دائر کیا تھا اس مقدمہ کے دوران میں اس نے بطور مستغیث عدالت میں جو بیان دیا اس میں یہ کہا تھا کہ بانی سلسلہ احمدیہ انگریزی حکومت کے باغی ہیں اس کا وجود انگریزوں کے لئے خطرناک ہے۔


خود کا شتہ پودہ والی عبارت
آخری عبارت جو احراریوں کی طرف سے اس الزام کی تائید میں پیش کی جاتی ہے اشتہار ۲۴فروری ۱۸۹۸ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ہفتم ص ۱۹ کی ہے یہ اشتہار تبلیغ رسالت ص۷ سے شروع ہو کر ص ۲۸ پر ختم ہو جاتا ہے ۔ اس اشتہار کے ص ۱۹ کے حوالہ سے احراری ”خودکاشتہ پودہ “کا لفظ اپنے سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کرتے ہیں ۔ اس الزام کا مفصل جواب تو آگے آتا ہے لیکن ا س جگہ یہ بتانا مقصود ہے کہ معترضین اس عبارت کو بھی پیش کرتے وقت دیانت سے کام نہیں لیتے اور اپنی پیش کردہ عبارت سے اوپر کی مندرجہ ذیل عبارت حذف کر جاتے ہیں ۔
۔ ”مجھے متواتر اس بات کی خبر ملی ہے کہ بعض حاسد بد اندیش جو بوجہ اختلاف عقیدہ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں یا جو میرے دوستوں کی نسبت خلاف واقعہ امورگورنمنٹ کے معزز حکام تک پہنچاتے ہیں اس لئے اندیشہ ہے کہ ان کی ہر روز کی مفتریانہ کاروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بد گمانی پیدا ہو “۔ ۔۔۔۔۔”اس بات کا علاج تو غیر ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کیا جائے جو اختلاف مذہبی کی وجہ سے یا نفسانی حسد اور بغض اور کسی ذاتی غرض کے سبب سے جھوٹی مخبری پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں ‘‘۔
(تبلیغ رسالت جلد ہفتم ص ۱۹)
علاوہ ازیں اس اشتہار کے شروع ہی میں اس اشتہار کی اشاعت کی غرض ان الفاظ میں تحریر میں فرماتے ہیں:۔
۔ ”بسا اوقات ایسے نئے فرقے (جماعت احمدیہ ) کے دشمن اور خود غرض جن کی عداوت اور مخالفت ہر ایک نئے فرقہ کے لئے ضروری ہے۔ گورنمنٹ میں خلاف واقع خبریں پہنچاتے ہیں ۔ اور مفتریانہ مخبریوں سے گورنمنٹ کو پریشانی میں ڈالتے ہیں پس چونکہ گورنمنٹ عالم الغیب نہیں ہے ا س لئے ممکن ہے کہ گورنمنٹ عالیہ ایسی مخبریوں کی کثرت کی وجہ سے کسی قدر بد ظنی کی طرف مائل ہوں ۔ لہذا گورنمنٹ عالیہ کی اطلاع کے لئے چند ضروری امور ذیل میں لکھتا ہوں “۔
(تبلیغ رسالت جلد ہفتم ص ۸ سطر ۱)

غرضیکہ اس اشتہار کی اشاعت کے لئے بھی یہی ضرورت پیش آئی تھی کہ مخالفین نے گورنمنٹ کو بانی سلسلہ احمدیہ اور حضور علیہ السلام کی جماعت کے خلاف یہ کہہ کر بد ظن کرنا چاہا تھا کہ یہ لوگ گورنمنٹ کے باغی ہیں ۔
احراریوں کی پیش کردہ تمام عبارتوں کو ان کے محولہ میں اصل مقام سے نکال کر دیکھ لو ۔ ہر جگہ یہی ذکر ہو گا ۔ کہ چونکہ مخالفوں نے مجھ پر حکومت سے بغاوت کا جھوٹا الزام لگایا ہے ا س لئے میں ان کی تردید میں یہ لکھتا ہوں کہ یہ الزام محض جھوٹا اور بے بنیاد ہے اور میں در حقیقت میں گورنمنٹ کاخیرخواہ ہوں ۔
پس حضرت مرزا صاحب علیہ السلام نے جس جس جگہ انگریزی حکومت کی تعریف کی ہے وہ تعریف بطور” مدح“ نہیں بلکہ بطور ”ذبّ“ کے ہے یعنی رفع التباس کے لئے ہے جس طرح قرآن مجید میں حضرت مریم کی عصمت اور پاکیزگی کا بالخصوص ذکر بطور مدح نہیں بلکہ بطور ”ذبّ“ کے ہے ۔


ہجرت حبشہ کی مثال
اس کی ایک اور واضح مثال تاریخ اسلام میں ہجرت حبشہ کی صورت میں موجود ہے ۔حبشہ میں عیسائی حکومت تھی مکہ میں مشرکوں کے مظالم میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا حضورﷺ نے مشرکوں کے استبداد پر عیسائی حکومت کو ترجیح دیتے ہوئے صحابہ کو اپنی بعثت کے پانچویں سال حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی ہدایت فرمائی ۔سیرت ابن ہشام میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے ۔
۔ ”جب رسول خدا نے اس شدت بلا کو ملاحظہ فرمایا جو ان کے اصحاب پر کفاروں کی طرف سے نازل ہوئی تھی اگرچہ خود حضور ﷺ بباعث حفاظت الہٰی اور آپ کے چچا ابو طالب کے سبب سے مشرکوں کی ایذاء رسانی سے محفوظ تھے ۔مگر ممکن نہ تھا کہ اپنے اصحاب کو بھی محفوظ رکھتے اس واسطے آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ملک حبش میں چلے جاؤ تو بہتر ہے ۔کیونکہ وہاں کا بادشاہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور وہ صدق اور راستی کی سرزمین ہے“ ۔
( سیرت ابن ہشام مترجم اردو مطبوعہ رفاہ عام سٹیم پریس ۱۹۱۵ ء ص ۱۰۶ )
پس حضور ﷺ کے حکم کے مطابق مسلمان ایک مشرک نظام سے نکل کر ایک عیسائی حکومت کے سایہ میں جا کر آباد ہو گئے ۔ ظاہر ہے کہ وہاں حاکم ہو کر نہیں بلکہ محکوم ہو کر رہنے کے لئے گئے تھے اور فی الواقعہ محکوم ہو کر ہی رہے ۔
ان مہاجرین میں علاوہ بہت سے دیگر صحابہ اور صحابیات کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت جعفر ؓ(جو حضرت علی ؓ کے بھائی تھے) آنحضرت ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا حضرت اسماء رضی اللہ عنھا زوجہ حضرت جعفر ؓ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ؓ ، حضرت ابو حذیفہؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ،حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ اور حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنھا جیسے جلیل القدر صحابہ اور صحابیات شامل تھیں۔
حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنھا روایت فرماتی ہیں کہ جب ہم حبشہ میں تھے نجاشی بادشاہ حبش کے پاس تو ہم بہت امن سے تھے کوئی برائی کی بات ہمارے سننے میں نہ آئی تھی اور ہم اپنے دین کے کام بخوبی انجام دیتے تھے پس قریش نے اپنے میں سے دو بہادر شخصوں کو جو عبداللہ بن ربیعہ اور عمرو بن عاص ہیں نجاشی کے پاس مکہ کی عمدہ عمدہ چیزیں تحفہ کے واسطے دے کر روانہ کیا پس یہ دونوں شخص نجاشی کے پاس آئے اور پہلے اس کے ارکان سلطنت سے مل کر ان کو تحفے اور ہدیے دئیے اور ان سے کہا کہ ہمارے شہر سے چند جاہل نوعمر لوگ اپنا قدیمی دین و مذہب ترک کر کے یہاں چلے آئے ہیں اور تمہارے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں اور ایک ایسا نیا مذہب اختیار کیا ہے کہ جس کو نہ ہم جانتے ہیں نہ تم جانتے ہو اب ہم بادشاہ کے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ ان لوگوں کو بادشاہ ہمارے ساتھ روانہ کر دے………پھر ان دونوں نے وہ ہدیے جو بادشاہ کے واسطے لائے تھے اس کے حضور میں پیش کیے اس نے قبول کئے پھر ان سے گفتگو کی انہوں نے عرض کیا اے بادشاہ ! ہماری قوم میں سے چند نو عمر جہلا اپنے قومی مذہب کو ترک کر کے یہاں چلے آئے ہیں اور آپ کا مذہب بھی اختیار نہیں کیا ہے ایک ایسے نئے مذہب کے پیرو ہیں جس کو نہ ہم جانتے ہیں نہ آپ جانتے ہیں …… آپ ان کو ہمارے ساتھ روانہ کر دیں نجاشی کے افسران سلطنت اور علماء مذہب نے بھی ان دونوں کے قول کی تائید کی…… نجاشی بادشاہ حبش…… نے کہا میں ان سے ان دونوں شخصوں کے قول کی نسبت دریافت کرتا ہوں کہ وہ کیا کہتے ہیں؟ اگر واقعی یہی بات ہے تو جو یہ دونوں کہتے ہیں تو میں ان کو ان کے حوالے کر دوں گا اور ان کی قوم کے پاس بھیج دونگا اور اگر کوئی اور بات ہے تو نہ بھیجوں گا ۔ حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ پھر نجاشی نے اصحاب رسول مقبول ﷺ کو بلوایا…… جب یہ لوگ (صحابہؓ( پہنچے نجاشی نے ان سے کہا وہ کونسا دین ہے جو تم نے اختیار کیا ہے اور اپنی قوم کا مذہب چھوڑدیا ہے اور کسی اور مذہب میں بھی داخل نہیں ہوئے ۔ ام سلمہؓ فرماتی ہیں صحابہؓ میں سے حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے گفتگو کی اور عرض کیا کہ اے بادشاہ ! ہم لوگ اہل جاہلیت تھے بتوں کی پرستش ہمارا مذہب تھا مردار خوری ہم کرتے تھے ، فواحش اور گناہ کا ارتکاب ہمارا وطیرہ تھا قطع رحم اور پڑوس کی حق تلفی اور ظلم و ستم کو ہم نے جائز رکھا تھا جو زبردست ہوتا وہ کمزور کو کھا جاتا ۔پس ہم ایسی ہی ذلیل حالت میں تھے جو اللہ نے ہم پر کرم کیا اور اپنا رسول ہم میں ارسال فرمایا……… ہماری قوم نے اس دین حق کے اختیار کرنے پر ہم کو تکلیفیں دیں اور ہم کو ستایا تاکہ ہم اس دین کو ترک کردیں اور بتوں کی پرستش اختیار کریں اور جس طرح افعال خبیثہ کو وہ حلال سمجھتے ہیں ہم بھی حلال سمجھیں پس جب ان کا ظلم حد سے زیادہ ہوا اور انہوں نے ہمارا وہاں رہنا دشوار کر دیا ہم وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور آپ کے ملک کو ہم نے پسند کیا اور آپ کے پڑوس کی ہم نے رغبت کی اور اے بادشاہ ہم کو امید ہوئی کہ یہاں ہم ظلم سے محفوظ رہیں گے۔ نجاشی نے جعفر ؓ سے پوچھا کہ جوکچھ تمہارے نبی پر نازل ہوتا ہے اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہے ؟ یعنی تم کویاد ہے؟ جعفر نے کہا ہاں یاد ہے۔ نجاشی نے کہا پڑھو۔ پس جعفر ؓ نے سورة مریم شروع کی‘‘۔
(سیرة ابن ہشام مترجم اردو ص۱۱۱،۱۱۲ جلد ۲)

حضرت جعفر ؓ نے نجاشی کے دربار میں سورة مریم بھی صرف آیت ذَالِکَ عِیْسیٰ ابْنُ مَرْیَمَ (مریم:۳۵ع۲) تک پڑھی تھی۔
۔( تفسیر مدارک التنزیل مصنفہ امام نسفی جلد ۱ ص۲۲۱ مطبع السعادة مصر زیر آیت ذلِٰکَ بِاَنَّ مِنْھُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُھْبَانًا الخ سورة المائدة :۸۳ ع۱۱ پ ۶ رکوع آخری)۔



ایک قابل غور سوال
اب یہاں ایک قابل غور سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نجاشی نے قرآن مجید سننے کی فرمائش کی تو حضرت جعفرؓ نے سارے قرآن مجید میں سے سورة مریم کو کیوں منتخب کیا؟ ظاہر ہے کہ سورة مریم قرآن مجید کی پہلی سورت نہیں تھی حضرت جعفرؓسورة فاتحہ سورة بنی اسرائیل اور سورة الکہف بھی پڑھ کر سنا سکتے تھے جو ہجرت حبشہ سے پہلے نازل ہوچکی تھیں اور ان تینوں سورتوں میں عیسائیت کا بالخصوص ذکر ہے۔ سورة فاتحہ کی آخری آیت ”غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِٓیْنَ“ میں یہود اور نصاریٰ کی دینی اتباع سے بچنے کے لئے دعا سکھائی گئی ہے اور سورة بنی اسرائیل اور کہف میں حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیھما السلام پر آنحضرت ﷺ کی فضیلت ثابت کرنے کے علاوہ عیسائی قوم کی تباہی کی بھی خبر دی گئی ہے پس اگر محض قرآن شریف کے سنانے کا سوال تھا تو پھر اول تو حضرت جعفر ؓ کو سورة فاتحہ پڑھنی چاہئے تھی کیونکہ وہ ام القرآن ہے اور سارے قرآن کا خلاصہ لیکن سورة مریم قرآن مجید کا خلاصہ نہیں ہے۔ پھر اگر عیسائیت کے متعلق اسلامی نظریہ کا بیان مقصود تھا تو سورة بنی اسرائیل اور سورة کہف سے بڑھ کر اور کوئی بہتر انتخاب نہ ہوسکتا تھا لیکن یہ عجیب بات ہے کہ حضرت جعفرؓ نے نجاشی کے دربار میں پڑھنے کے لئے سورة مریم کو منتخب فرمایا اور اس میں سے بھی دو رکوع بھی پورے نہیں بلکہ قریبا ½ 1 رکوع کی تلاوت کی جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی والدہ حضرت مریم کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے اور جس حصہ میں عیسائیت کے بارے میں کوئی اختلافی عقیدہ بیان نہیں کیا گیا ۔ پھر حضرت جعفر ؓ خاص طور پر آیت ذٰلِکَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ قَوْلَ الْحَقَّ الَّذِیْ فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ (مریم: ۳۵)پر آکر رک جاتے ہیں جس سے اگلی آیت یہ ہے مَاکَانَ للہِ اَنْ یَتَّخِذَ وَلَدًا سُبْحَانَہٗ (مریم ۳۶) یعنی اللہ کے شان شایان نہیں کہ وہ کوئی بیٹا بنائے وہ اس سے پاک ہے اس آیت میں ابنیت مسیح کی نفی کی گئی ہے عیسائیت کے ساتھ سب سے بڑا اختلافی مسئلہ بیان کر کے اگلی آیات میں عیسائیوں کی تباہی اور اسلامی حکومت کے قیام کی پیشگوئی کی گئی ہے لیکن حضرت جعفر ؓ مصلحتاً پچھلی آیت پر آکر رک جاتے ہیں اور صرف اسی حصہ پر اکتفا کرتے ہیں جس کے سننے سے ہر ایک عیسائی کا دل خوش ہوتا ہے۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ وفد قریش کا اعتراض تو یہ تھا کہ یہ لوگ ایک نئے دین کے متبع ہیں جو عیسائیت سے مختلف ہے اور نجاشی نے بھی یہی اعلان کیا تھاکہ اگر ان کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوا تو میں مسلمانوں کو قریش کے حوالے کردونگا اور اسی دعویٰ کی تائید یا تردید حضرت جعفر ؓ سے مطلوب تھی لیکن انہوں نے جو آیات تلاوت فرمائیں ان سے کسی رنگ میں بھی وفد قریش کے دعویٰ کی نہ تائید ہوتی ہے نہ تردید پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت جعفر ؓ نے اس موقعہ پر بجائے یہ کہنے کے کہ ہاں یہ درست کہ کہ ہم ایک نئے دین کے علمبردار ہیں اور ایک نئی شریعت کے حامل ہیں جس نے توراة اور انجیل کو منسوخ کر دیا ہے ہم حضرت مسیح کے ابن اللہ ہونے کے عقیدہ کو ایک جھوٹا اور مشرکانہ عقیدہ سمجھتے اور عیسائی مذہب کو ایک محرف ومبدل اور غلط مذہب سمجھتے ہیں اور یہ کہ ہمارا نبی ﷺ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ ؑ بلکہ تمام انبیاء گذشتہ سے ہر لحاظ سے افضل ہے آپ نے سورة مریم کی صرف وہ آیات تلاوت فرمائیں جن میں حضرت مسیح ؑ اور حضرت مریم ؑ کا تقدس اور پاکیزگیر بیان کی گئی ہے لیکن ان سب سوالوں کا جواب یہی ہے کہ چونکہ وفد قریش کا مقصد تحقیق حق نہیں تھا بلکہ احراریوں کی طرح محض اشتعال انگیزی تھا اور وہ اختلافی امور میں بحث کوالجھا کر نجاشی اس کے درباریوں اور عیسائی درباریوں اور عیسائی پادریوں کو جو( اس وقت دربار میں حاضر تھے) مسلمانوں کے خلاف بھڑکانا چاہتے تھے اس لئے حضرت جعفر ؓ نے ان کی اس شر انگیز اور مفسدانہ سکیم کو ناکام بنانے کے لئے بجائے اختلافی امور میں الجھنے کے قرآن مجید کی اس تعلیم پر زور دیا جس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اسی طرح انہوں نے نجاشی کی حکومت کی (جو ایک غیر مسلم نصرانی حکومت تھی )جو تعریف کی وہ سراسر درست اور حق تھی اور بطور” ذب“ یعنی رفع التباس تھی۔ اس لئے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا ۔اور نہ اس کو ”خوشامد“ کہا جاسکتا ہے ۔نیز نجاشی کی حکومت کی تعریف اس وجہ سے بھی” خوشامد“ نہیں کہلاسکتی کہ قریش مکہ کے جبرو استبداد اور ظلم وتعدی اور احیاء فی الدین کے مقابلہ میں حبشہ کی عیسائی حکومت کے اندر مذہبی آزادی اور عدل و انصاف کا دور تھا ۔پس اس تقابل کے نتیجہ میں حضرت جعفر ؓ اور دیگر مہاجر صحابہ کے دل میں جنہوں نے قریش مکہ کے بھڑکائے ہوئے جلتے تنور سے نکل کر حبشہ کی عیسائی حکومت کے ماتحت امن وامان اور سکون و آرام پایاتھا نجاشی کے لئے جذبات تشکر و امتنان کا پیدا ہونا ایک طبعی امر تھا اور پھر نجاشی کے سامنے ان جذبات کا اظہار بموجب حکم ”مَنْ لَمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللہَ“( ابو داوٴد کتاب الادب ۔ترمذی کتاب البر)ضروری تھا۔



انگریزی حکومت کی تعریف سکھوں کے ظلم و ستم سے تقابل کے باعث تھی
بعینہ اسی طرح حضرت مرزا صاحب کے زمانے میں بھی جب بعض مخاف علماء اور پادریوں نے حکومت وقت کو آپ اور آپ کی جماعت کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی اور آپ پر” باغی“ ہونے کا جھوٹا الزام لگایا تو ضروری تھا کہ حضرت مرزا صاحب اس الزام کی تردید پر زور الفاظ میں کرتے اور حکومت کو اپنے ان جذبات امتنان سے اطلاع دیتے جو سکھوں کے وحشیانہ مظالم سے نجات حاصل ہونے کے بعد انگریزی حکومت کے پر امن دور میں آجانے کے باعث آپ کے دل میں موجود تھے۔



حضرت مرزا صاحب کی تحریرات
چنانچہ حضرت مرزا صاحب نے اپنی ان تحریرات میں جن میں آپ نے انگریزی حکومت کی امن پسندانہ پالیسی کی تعریف فرمائی ہے بار بار اس پہلو کا ذکر فرمایا ہے۔
فرماتے ہیں:۔
۔(۱) ۔”مسلمانوں کو ابھی تک وہ زمانہ نہیں بھولا جبکہ وہ سکھوں کی قوم کے ہاتھوں ایک دہکتے ہوئے تنور میں مبتلا تھے اور ان کے دست تعدی سے نہ صرف مسلمانوں کی دنیا ہی تباہ تھی بلکہ ان کے دین کی حالت اس سے بھی بدتر تھی۔ دینی فرائض کا ادا کرنا تو در کنار بعض اذان نماز کہنے پر جان سے مارے جاتے تھے ایسی حالت زار میں اللہ تعالیٰ نے دور سے اس مبارک گورنمنٹ کو ہماری نجات کے لئے ابر رحمت کی طرح بھیجدیا جس نے آن کر نہ صرف ان ظالموں کے پنجہ سے بچایا بلکہ ہر طرح کا امن قائم کر کے ہر قسم کے سامان آسائش مہیا کئے اور مذہبی آزادی یہاں تک دی کہ ہم بلا دریغ اپنے دین متین کی اشاعت نہایت خوش اسلوبی سے کر سکتے ہیں‘‘۔
(اشتہار ۱۰ جولائی )
(۱۹۰۰تبلیغ رسالت جلد ۹ ص ۱،۲)

۔ (۲)۔” رہی یہ بات کہ اس ( شیخ محمد حسین بٹالوی) نے مجھے گورنمنٹ انگریزی کا باغی قرار دیا ہے ۔ سو خدا تعالی کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ عنقریب گورنمنٹ پر بھی یہ بات کھل جائیگی کہ ہم دونوں میں سے کس کی باغیانہ کاروائیاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر یہ گورنمنٹ ہمارے دین کی محافظ نہیں تو پھر کیونکر شریروں کے حملوں سے محفوظ ہیں ۔کیا یہ امر کسی پر پوشیدہ ہے کہ سکھوں کے وقت میں ہمارے دینی امور کی کیا حالت تھی اور کیسے ایک بانگ نماز کے سننے سے بھی مسلمانوں کے خون بہائے جاتے تھے ۔کسی مسلماں مولوی کی مجال نہ تھی ۔کہ ایک ہندو کو مسلمان کر سکے‘‘۔
  (اشتہار ۲۷ دسمبر ۱۸۹۸ )
(تبلیغ رسالت جلد ۷ ص۶۸)

پھر فرماتے ہیں :۔
۔ (۳)۔ ان احسانات کا شکر کرنا ہم پر واجب ہے جو سکھوں کے زوال کے بعد ہی خدا تعالی کے فضل نے اس مہربان گورنمنٹ کے ہاتھ سے ہمارے نصیب کئے۔۔۔۔۔اگرچہ گورنمنٹ کی عنایات سے ہر ایک کو اشاعت مذہب کے لئے آزادی ملی ہے۔لیکن اگر سوچ کر دیکھا جائے تو اس آزادی کا پورا پورا فائدہ محض مسلمان اٹھا سکتے ہیں اور اگر عمدا فائدہ نہ اٹھائیں تو ان کی بد قسمتی ہے ۔وجہ یہ ہے کہ گورنمنٹ نے ۔۔۔۔۔۔کسی کو اپنے اصولوں کی اشاعت سے نہیں روکا،لیکن جن مذہبوں میں سچائی کی قوت اور طاقت نہیں کیونکر ان مذہبوں کے واعظ اپنی ایسی باتوں کو وعظ کے وقت دلوں میں جما سکتے ہیں ؟۔۔۔۔۔۔اس لئے مسلمانوں کو نہایت ہی گورنمنٹ کا شکر گزار ہو نا چاہیے کہ گورنمنٹ کے اس قانون کا وہی اکیلے فائدہ اٹھا رہے ہیں “۔
( اشتہار ۲۲ ستمبر ۱۸۹۵ )
(تبلیغ رسالت جلد ۴ ص ۳۰ ،۳۳ )
(   تبلیغ رسالت جلد ۳ ص ۱۹۴)



تنور سے نکلکر دھوپ میں
پس مطابق مقولہ
وَ بِضِدِّھَا تَتَبَیَّنُ الْاَشْیَاءٗ
انگریزی نظام حکومت قابل تعریف تھا لیکن اس لئے نہیں کہ وہ اپنی ذات میں آئیڈئیل نظام تھا بلکہ اس لئے کہ اپنے پیشرو سکھ نظام کے مسلمانوں پر ننگ انسانیت مظالم اور جبر و استبداد کے مقابلہ میں اس نظام کی مذہبی رواداری اور شہری حقوق میں عدل و انصاف کا قیام عمدہ اور لائق شکریہ تھا مسلمانان ہند کی مثال اس شخص کی سی تھی جو بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں میں پڑا جل رہا ہواور اس کو کوئی ہاتھ اس آگ میں سے نکال کر دھوپ میں ڈال دے اب اگرچہ وہ شخص دھوپ میں ہے لیکن آگ کے شعلوں کی تپش کے تصور سے وہ اس ہاتھ کو رحمت خداوندی جان کر اس کا شکریہ ادا کریگا اور اگر ایسا نہ کرے تو کافر نعمت ہوگا پھر یہ جذبات تشکر اسی طرح کے تھے جس طرح مہاجرین حبشہ نے قریش مکہ کے جبر و استبداد کے مقابلہ میں حبشہ کے عیسائی نظام کو ایک فضل خداوندی اور نعمت غیر مترقبہ سمجھا ۔ یہاں تک کہ دشمنوں کے مقابلہ میں نجاشی کی کامیابی اور کامرانی کے لئے صحابہ رو رو کر دعائیں بھی کرتے رہے ۔ چنانچہ حضرت ام الموٴمنین ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں۔
۔ ”ہم نے وہاں (حبشہ میں) نہایت اطمینان سے زندگانی بسر کی ۔ پھر تھوڑے ہی دن گذرے تھے کہ نجاشی کی سلطنت میں کوئی دعویدار پیدا ہوگیا اور اس نے نجاشی پر لشکر کشی کی ۔فرماتی ہیں اس خبر کو سن کر ہم لوگ بہت رنجیدہ ہوئے اور یہ خیال کیا کہ اگر خدانخواستہ وہ مدعی غالب ہوا تو نامعلوم ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے؟فرماتی ہیں۔نجاشی بھی اپنا لشکر لے کر اس کے مقابلہ کو گیا اور دریائے نیل کے اس پار جنگ واقع ہوئی۔ فرماتی ہیں صحا بہ نے آپس میں کہا۔ کوئی ایسا شخص ہو جو دریا کے پار جاکر جنگ کی خبر لائے……زبیر بن عوام نے کہا میں جاتا ہوں۔ صحابہ نے ایک مشک میں ہوا بھر کر ان کے حوالے کی اور وہ اس کو سینے کے تلے دبا کر تیرتے ہوئے دریا کے پار گئے اور وہاں سے سب حال تحقیق کر کے واپس آئے۔ فرماتی ہیں ہم یہاں نجاشی کی فتح کے واسطے نہایت تضرع و زاری کے ساتھ خدا سے دعا مانگ رہے تھے کہ اتنے میں زبیر بن عوام واپس آئے اور کہا کہ اے صحابہ !تم کو خوشخبری ہو کہ نجاشی کی فتح ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے دشمن کو ہلاک کیا فرماتی ہیں پھر تو نجاشی کی سلطنت خوب مستحکم ہو گئی اور جب تک وہاں ہم رہے نہایت چین اور آرام سے رہے ۔ یہاں تک کہ پھر حضور ﷺ کی خدمت میں مکہ میں حاضر ہو ئے ‘‘۔
(سیرت ابن ہشام مترجم اردو ص ۱۱۳ جلد ۲)
پس اگر کوئی انصاف پسند اور غیر متعصب انسان سکھ نظام کے صبر آزما دور ۔ ۱۸۵۷ء کے سانحہ اور ان کے بعد کے تاریخی حالات کو مد نظر رکھ کر ان عبارات کو پڑھے اور اس امر کو بھی پیش نظر رکھے ۔ کہ وہ تحریرات مخالفین کی طرف سے انگریزی گورنمنٹ کا باغی ہو نے کے جھوٹے �

مرزا صاحب نے مولوی ثناء اللہ کی موت کی پیشگوئی کی؟

1 نمبر
یہ افتراء ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر گز ثنا ء اللہ کی موت کی پیشگوئی نہیں کی۔
چنانچہ آپ اشتہار” آخری فیصلہ“ میں لکھتے ہیں:۔
۔”یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں “۔
( مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص ۵۷۹ مطبوعہ الشرکہ الاسلامیہ ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء )


کوئی مخالف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تحریر سے یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ حضورؑ  نے ثناء اللہ کے متعلق حضور کی زندگی میں مرنے کی پیشگوئی کی تھی ۔
ہاں اس کو دعوت مباہلہ دی تھی جس کی تفصیل درج ذیل ہے:۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ”انجام آتھم “میں تمام علماء گدی نشینوں اور پیروں کو” آخری فیصلہ“ ( مباہلہ ) کی دعوت دی۔
چنانچہ آپ لکھتے ہیں :۔
وَ اٰخِرُ الْعِلَاجِ خُرُوْجُکُمْ اِلٰی بَرَازِ الْمُبَاھَلَۃِ ۔۔۔۔۔ ھٰذَا اٰ خِرُ حِیَلِ اَرَدْنَاہُ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ
( انجام آتھم ص ۱۶۵ مطبع ضیاء الاسلام قادیان)
کہ آخری علاج تمہارے لئے میدان مباہلہ میں نکلنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہی آخری طریق فیصلہ ہے جس کا ہم نے ارادہ کیا ہے۔


اس دعوت مباہلہ میں آپ نے فرمایا کہ فریقین ایک دوسرے کے حق میں بددعا کریں کہ فریقین میں سے جو فریق جھوٹا ہے، اے خدا تو اس کو ایک سال کے عرصے تک نہایت دکھ کی مار میں مبتلا کر کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجذوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنوں اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگ دیوانہ کا شکار بنا اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر۔
( انجام آتھم ص۶۶ مطبوعہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان)


اور اسکے بعد لکھا :۔
۔” گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان !کہ خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ توہین وتکفیر کو چھوڑے اور نہ ٹھٹھا کرنے والوں کی مجلسوں سے الگ ہو“۔
( ایضا صفحہ ۶۷)


اس رسالہ کے مخاطبین میں سے مولوی ثناء اللہ کا نمبر ۱۱ تھا۔ مولوی صاحب نے اس چیلنج کا کچھ جواب نہ دیا، اور اپنی مہر خاموشی سے جری اللہ فی حلل الانبیاء کی صداقت پر مہر ثبت کر دی، لیکن جب ان پر ہر طرف سے دباؤ ڈالا گیا تو اس بدقسمت جانور کی طرح جو شیر کو دیکھ کر انتہائی بدحواسی سے خود ہی اس پر حملہ کر بیٹھتا ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مباہلہ پر آمادگی ظاہر کی جس کے جواب میں حضرت اقدس نے لکھا ۔




حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جواب
۔” مولوی ثناء اللہ امرتسری کی دستخطی تحریر میں نے دیکھی ہے جس میں وہ درخواست کرتا ہے کہ میں اس طور کے فیصلہ کے لئے بہ دل خواہش مندہوں، کہ فریقین یعنی میں اور وہ دعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں مر جائے“۔
( اعجاز الاحمدی ص ۱۴ پہلا ایڈیشن)


۔”اب اس پر قائم رہیں تو بات ہے“۔
( اعجاز احمدی ص ۱۴ ایڈیشن اول)
ثنائی حیلہ جوئی:۔ ”چونکہ خاکسار نہ واقع میں اور نہ آپ کی طرح نبی یا رسول یا ابن اللہ یا الہامی ہے، اس لئے ایسے مقابلہ کی جرات نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ میں افسوس کرتاہوں کہ مجھے ان باتوں پر جرات نہیں“۔
( الہامات مرزا ص ۸۵ طبع دوم و ص ۱۱۱ طبع ششم )
لیکن جب ہر طرف سے لعن طعن ہوئی تو لکھا :۔


ثناء اللہ کی دوبارہ آمادگی
۔” البتہ آیت ثانیہ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاءَ نَا وَ اَبْنَا ءَ کُمْ ۔۔۔۔ ثُمَّ نَبْتَھِلْ ۔۔۔۔( سورہ آل عمران ۶۲) پر عمل کرنے کے لئے ہم تیار ہیں میں اب بھی ایسے مباہلہ کے لئے تیار ہوں جو آیت مرقومہ سے ثابت ہوتا ہے جسے مرزا صاحب نے خود تسلیم کیا ہے“۔
(اہل حدیث ۲۲ جون ۱۹۰۶ء ص ۱۴)


۔’’ مرزائیو !سچے ہو تو آؤ اور اپنے گورو کو ساتھ لاؤ۔ وہی میدان عیدگاہ امرتسر تیار ہے جہاں تم پہلے صوفی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کر کے آسمانی ذلت اٹھا چکے ہو ( جھوٹ ہے وہاں ہر گزکوئی ایسا مباہلہ نہیں ہوا ۔ جس میں فریقین نے ایک دوسرے کے حق میں بددعا کی ہو۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے کوئی بددعانہیں کی تھی، ) اورا نہیں ہمارے سامنے لاؤ جس نے ہمیں رسالہ انجام آتھم میں مباہلہ کے لئے دعوت دی ہے کیونکہ جب پیغمبر جی سے فیصلہ نہ ہو، سب امت کے لئے کافی نہیں ہو سکتا “۔
( اہل حدیث ۲۹ مارچ ص ۱۰ ۱۹۰۷ء)
مولوی ثناء اللہ صاحب کی یہ تحریر ۲۹ مارچ ۱۹۰۷ء کی ہے مگر اس سے کچھ دن قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقةالوحی میں ( جو اس وقت زیر تصنیف تھی ) یہ تحریر فرما چکے تھے کہ” میں بخوشی قبول کرونگا ،اگر وہ (ثناء اللہ ) مجھ سے درخواست مباہلہ کریں“۔
( تتمہ حقیقة الوحی ص ۳۰ و روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۴۶۲)


۔”مباہلہ کی درخواست کرے“۔
( ایضا ص ۳۳)
( ایضا ۴۶۵)
حضرت اقدس کی یہ تحریر ۲۵ فروری ۱۹۰۷ء کی ہے جیسا کہ تتمہ حقیقة الوحی کے ص ۳۶ سطر ۱۰ سے معلوم ہوتا ہے۔اس تحریر سے ظاہر ہے کہ حضرت ؑ کا ارادہ یہ تھا کہ اب اگرمولوی ثناء اللہ مباہلہ پر آمادگی ظاہر کرے تو اسے بھاگنے نہ دیا جائے ۔چنانچہ جب اس نے ۲۹ مارچ ۱۹۰۷ کو دعوت مباہلہ دی ( جو اوپر درج ہو چکی ہے) تو حضرت کی طرف سے مندرجہ ذیل جواب بدر ۴ اپریل ۱۹۰۷ میں دیا گیا، لیکن مولوی ثناء اللہ پھر فرار کی راہ اختیار کرنے لگا، جیسا کہ اس کے جواب میں مندرجہ اہل حدیث ۱۹ اپریل ۱۹۰۷ سے ظاہر ہے۔ تو اس کے جواب کے اشاعت سے قبل ہی اللہ تعالی نے حضرت اقدس ؑ کو اس کے ارادہ سے مطلع فرما دیا اور حضورؑ نے ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ کا اشتہار آخری فیصلہ شائع فرما دیا تاکہ ثناء اللہ کے لئے گول مول کر کے ٹالنے کی گنجائش نہ رہے اور وہ مجبور ہو کر تصرف الہی کے ماتحت موت کو اپنے سر پر سوار دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ سے لکھ دے کہ” تمہاری یہ تحریر مجھے منظور نہیں، اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے“۔
( اخبا ر اہل حدیث ۲۶ اپریل ۱۹۰۷ ء )


چنانچہ اس کی تفصیل درج ذیل کی جاتی ہے :۔


حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جواب
۔”مولوی ثناء اللہ صاحب کو بشارت دیتا ہوں کہ مرزا صاحبؑ  نے ان کے اس چیلنج کو منظور کر لیا ہے۔ بے شک (آپ) قسم کھا کر بیان کریں کہ یہ شخص ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) اپنے دعوی میں جھوٹا ہے اور بے شک یہ بات کہیں کہ اگر میں اس بات میں جھوٹاہوں تو لَعْنَةُ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ ۔ مباہلہ کی بنیاد جس آیت قرآنی پرہے اس میں تو صرف لَعْنَةُ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ آیا ہے“۔
( اخبار بدر ۱۴ اپریل ۱۹۰۷ء)




ثنا ئی فرار
۔”میں نے آپ کو مباہلہ کے لئے نہیں بلایا، میں نے تو قسم کھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے مگر آپ اس کو مباہلہ کہتے ہیں۔ حالانکہ مباہلہ اس کو کہتے ہیں جو فریقین مقابلہ پر قسمیں کھائیں ۔میں نے حلف اٹھا نا کہا ہے ۔مباہلہ نہیں کہا ۔قسم اور ہے مباہلہ اور ہے“۔
( اہل حدیث ۱۹ اپریل ۱۹۰۷ ص ۴)


ابھی یہ ثنائی فرار معرض وجود میں نہیں آیا تھا کہ اللہ تعالی نے جو علیم و خبیر ہے اپنے مسیح موعودؑ کو اس کی اطلاع دے کر اپنے شکار کو دنیا کے سامنے شرمندہ کرنے کے لئے ایک طریق کی تحریک فرمائی۔ چنانچہ اس کے مطابق حضور نے آخری اتمام حجت کے طور پر ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ کو اپنی طرف سے ”دعائے مباہلہ“ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ” آخری فیصلہ “کے عنوان سے شائع فرما دی۔ جس میں اپنی طرف سے دعا فرمائی کہ خدا تعالی سچے کی زندگی میں جھوٹے کو ہلاک کر دے اور با لآخر لکھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اس اشتہار کو اہل حدیث میں شائع فرما کر” جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے“۔
مولوی ثناء اللہ نے اس اشتہار کو اہل حدیث ۲۶ اپریل ۱۹۰۷ میں شائع کیا اور اس کے نیچے یہ لکھا:۔
 ۔’’اس دعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی ،ا ور بغیر میری منظوری کے اس کو شائع کر دیا“۔
( اخبار اہل حدیث ۲۶ اہریل ۱۹۰۷ )
”تمہاری یہ تحریر کسی صورت میں بھی فیصلہ کن نہیں ہو سکتی“
( ایضا )
”میرا مقابلہ تو آپ سے ہے۔ اگر میں مر گیا تو میرے مرنے سے اور لوگوں پر کیا حجت ہو سکتی ہے“۔ ”خدا کے رسول چونکہ رحیم کریم ہوتے ہیں اور ان کی ہر وقت یہی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شخص ہلاکت میں نہ پڑ ے مگر اب کیوں آپ میری ہلاکت کی دعا کرتے ہیں“۔
۔”خداتعالی جھوٹے ،دغا باز، مفسد اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے تا کہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کر لیں “۔


نوٹ:۔ یہ آخری عبارت نائب ایڈیٹر کی طرف سے لکھی گئی مگر مولوی ثناہ اللہ نے اس کی تصدیق کی اور لکھا کہ” میں اس کو صحیح جانتا ہوں“۔
(اہل حدیث ۳۱ جولائی ۱۹۰۷)
۔”مختصر یہ کہ ۔۔۔۔ یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے“۔
( اقتباسات از اہل حدیث ۲۶ اپریل ۱۹۰۷ ص ۵۔۶)


مولوی ثناء اللہ پھر لکھتا ہے :۔ ۔
۔”آنحضرت ﷺ باوجود سچا نبی ہونے کے مسیلمہ کذاب سے پہلے انتقال فرماگئے، اور مسیلمہ باوجود کاذب ہونے کے صادق سے پیچھے مرا “۔
( مرقع قادیا نی اگست ۱۹۰۷ ص ۹)


۔”کوئی ایسی نشانی دکھاؤ جو ہم بھی دیکھ کر عبرت حاصل کریں،مر گئے تو کیا دیکھیں گے اور کیا ہدایت پائیں گے “۔
( اخبار وطن امرتسر ۲۶ اپریل ۱۹۰۷ ص ۱۱)
پس چونکہ مولوی ثنا ء اللہ صاحب نے اپنی پرانی عادت کے مطابق نجران کے عیسائیوں کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مباہلہ سے فرار اختیار کیا، اس لئے مباہلہ نہ ہوا اور ثناء اللہ کو خداتعالی نے اس کے تسلیم کردہ اصول کے رو سے ”جھوٹے ،دغا باز، مفسد اور نافرمان “لوگوں کی طرح لمبی عمر دی اور اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیچھے زندہ رکھ کر” مسیلمہ کذاب “ثابت کر دیا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اشتہار ”مسودہ مباہلہ“ ہے جس طرح قرآن مجید کی آیت مباہلہ میں لَعْنَةُ اللہِ عَلَی الْکَا ذِبِیْنَ ( سورة ال عمران ۶۲) آنحضرت ﷺ کی طرف سے” مسودہ مباہلہ“ تھی۔ وہاں چونکہ عیسائی بھاگ گئے تھے اس لئے مباہلہ نہ ہوا اور وہ نہ مرے۔
آنحضرتﷺ نے فرمایا:۔
۔’’ لَمَّا جَاءَ الْحَوْلُ عَلَی الَّنَصٰرٰی کُلُّھُمْ حَتّٰی یَھْلِکُوْا‘‘۔
( تفسیر کبیر لفخر الرازی جلد ۸ ص ۸۵ مصری مطبوعہ ۱۹۳۸ پہلا ایڈیشن)
اگر عیسائی مباہلہ کر لیتے اور آنحضرتﷺ کی طرح لَعْنَةُ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ کہہ دیتے تو ان میں سے ہر ایک ایک سال کے اندر ہلاک ہو جاتا ۔ اسی طرح ہم بھی کہتے ہیں کہ اگر مولوی ثناء اللہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ میں میدان مباہلہ سے بھاگ نہ جانا ۔ اور حضرت کی خواہش کے مطابق وہی بددعا کرتا تو یقینا ہلاک ہو جاتا۔
جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود تحریر فرمایا ہے کہ:۔
۔ ” اگر اس چیلنج پر وہ ( ثناء اللہ ) مستعد ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مر جائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے“۔
( اعجاز احمدی ص ۳۷)
پس جس طرح وہاں پر نجران کے عیسائیوں کا فرار”خدائی فیصلہ بروئے مباہلہ“ کے رستہ میں روک ثابت ہوا۔ یہاں بھی ثناء اللہ کا مندرجہ بالا فرار اس کو ہلاکت سے بچا گیا۔ نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرتﷺ سے بڑے ہیں اور نہ مولوی ثناء اللہ نجرا ن کے عیسائیوں سے بڑا ہے۔




اشتہار آخری ” مسودہ مباہلہ“ تھا  
۔(۱)۔خود مولوی ثنا ء اللہ لکھتا ہے :۔
۔”کرشن قادیان نے ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ کو میرے ساتھ مباہلہ کا اشتہار شائع کیا تھا “۔
( مرقع قادیان جون ۱۹۰۸ ص ۱۸)


۔(۲)۔” آج تک مرزا صاحب نے کسی مخالف سے ایسا کھلا مباہلہ نہیں کیا تھا بلکہ ہمیشہ گول مول رکھا کرتے تھے“ ۔
( اشتہار مرزا قادیانی کا انتقال اور اس کا نتیجہ شائع کردہ ثناء اللہ ۳۱ مئی ۱۹۰۸ )


۔(۳) ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار کا عنوان ہے ۔ مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ
( مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص ۵۷۹ از الشرکہ الاسلامیہ )
اور مولوی ثناء اللہ کے نزدیک ”آخری فیصلہ “ مباہلہ ہی ہوتا ہے جیسا کہ وہ لکھتے ہیں :۔
۔” ایسے لوگوں کو جو کسی دلیل کو نہ جانیں، کسی علمی بات کو نہ سمجھیں بغرض” بدرا بدر بائید رسانید“ کہہ دے کہ آ ؤ ایک آخری فیصلہ بھی سنو ، ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے، اپنی بیٹیاں اور تمہاری بیٹیاں ، اپنے بھائی بند نزدیکی اور تمہارے بھائی بند نزدیکی بلائیں ،پھر عاجزی سے جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں۔ خدا خود فیصلہ دنیا میں ہی کر دے گا “۔
( تفسیر ثنائی جلد ۱ص ۲۲۲۔۲۲۳ ادارہ ترجمان السنہ ۷ ایبک روڈ انار کلی لاہور )


۔ (۴)۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک بھی یہ دعائے مباہلہ ہی تھی جیسا کہ حضورؑ  فرماتے ہیں:۔
۔” مباہلہ بھی ایک آخری فیصلہ ہوتا ہے۔آنحضرتﷺ نے بھی نصاری کو مباہلہ کے واسطے طلب کیا تھا ۔مگر ان میں سے کسی کو جرات نہیں ہوئی“۔
( بدر۷ ۱ مئی ۱۹۰۶)


۔(۵)۔ حضرت اقدسؑ نے بعینہ” آخری فیصلہ “ والی دعا کے مطابق ایک اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ کو مولوی محمد حسین بٹالوی وغیرہ کے متعلق شائع فرمایا تھا ۔
اس کے متعلق حضور  فرماتے ہیں:۔
۔ ” ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ کا ہمارا اشتہار جو مباہلہ کے رنگ میں شیخ محمد حسین اور اس کے دو ہم راز رفیقو ں کے مقابل پر نکلا ہے وہ صرف ایک دعاہے “۔
( راز حقیقت ص ب اشتہار ۳۰ نومبر۸ ۱۸۹)
۔”اب یہ اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ ” ایک آخری فیصلہ ہے چاہیے کہ ہر ایک طالب صادق صبر سے انتظار کرے“۔
( راز حقیقت ص ۱۴)
گویا حضرت نے اشتہار کو جو” مباہلہ“ کے رنگ میں ہےا یک ”دعا“ پر مشتمل تھا ”آخری فیصلہ “قرار دے کر بتا دیا ہے کہ حضور کے نزدیک آخری فیصلہ سے مرا دمباہلہ ہی ہوتا ہے“ ۔
(مجموعہ اشتہارات جلد ۳ ص ۵۸)
حضورؑ تحریر فرماتے ہیں:۔” کیونکہ جس کسی طرح جھگڑا فیصلہ نہ ہو سکے تو آخری طریق خدا کا فیصلہ ہے جس کو مباہلہ کہتے ہیں“ ۔
(تبلیغ رسالت جلد ۷ ص ۵۲)
(مجمو عہ اشتہارات جلد ۳ ص ۵۸)


۔(۶)۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک صرف اور صرف مباہلہ کی صورت میں جھوٹا سچے کی زندگی میں مرتا ہے، جیسا کہ حضور تحریر فرماتے ہیں ۔ یہ کہاں لکھا ہےکہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جاتا ہے ۔ ہم نے تواپنی تصانیف میں ایسا ہی لکھا ، ہم نے تو یہ لکھا ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں مر جاتا ہے کیا حضورﷺکے سب اعداء ان کی زندگی میں ہلاک ہو گئے تھے ہزاروں اعداء آپ کی وفات کے بعد زندہ رہے ۔ ہاں جھوٹا مباہلہ کرنے والاسچے کی زندگی میں ہلاک ہو اکرتا ہے ۔ ایسے ہی ہمارے مخالف بھی ہمارے مرنے کے بعد زندہ رہیں گے ۔ ہم تو ایسی باتیں سن کر حیران ہو جاتے ہیں ، دیکھو ہماری باتوں کو کیسے الٹ پلٹ کر کے پیش کیا جاتا ہے اور تحریف کرنے میں وہ کمال کیا ہے کہ یہودیوں کے بھی کان کاٹ دیئے ہیں ۔ کیا کسی نبی ،ولی ، قطب ، غوث کے زمانہ میں ایسا ہوا کہ سب اعداء مر گئے ہوں ،بلکہ کافرمنافق باقی رہ گئے تھے، ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ سچے کے ساتھ جو جھوٹے مباہلہ کرتے ہیں تو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوتے ہیں ۔ ایسے اعتراض کرنے والے سے پوچھیں کہ ہم نے کہاں لکھا ہے کہ بغیر مباہلہ کے ہی جھوٹے سچے کی زندگی میں تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں ، وہ جگہ تو نکالو جہاں یہ لکھا ہے “۔
(الحکم ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۷ءص۹)


۔(۷)۔ ثنا ء اللہ اگر اس کو اشتہار مباہلہ نہ سمجھتا تھا تو اس کے جواب میں یہ کیوں لکھا ہے تھا کہ” اس دعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی ، اور بغیر میری منظوری کے اس کو شائع کر دیا“ ۔
(اخبار اہل حدیث ۲۶ اپریل۷ ۱۹۰ء )
کیونکہ ظاہر ہے کہ یکطرفہ بددعا کے لئے دوسرے کی اجازت کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ منظوری یا عدم منظوری کا سوال صرف اور صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ یہ دعائے مباہلہ ہو ۔


۔(۸)۔عنوان اشتہار ہے:۔ ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ “۔
(مجموعہ اشتہارات جلد ۳ ص ۵۷۹از الشرکة الاسلامیہ )
۔”ساتھ“ کا لفظ صاف طور پر بتا رہا ہے کہ یہ یکطرفہ دعا نہیں بلکہ دونوں فریقوں کی رضامندی کا سوال ہے۔ اگر ایک طرفہ دعا ہوتی تو” مولو ی ثناء اللہ صاحب کے متعلق آخری فیصلہ“ ہونا چاہئے تھا ۔ مجسٹریٹ جب فیصلہ کر تا ہے تو” زید یا بکر کے متعلق“ فیصلہ کرتا ہے ، لیکن جب یہ کہا جائے کہ” زید نے بکر ساتھ فیصلہ کیا “تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ زید اور بکر دونوں کی رضامندی سے یہ فیصلہ ہوا ۔ اگر ایک فریق بھی نا رضا مند ہو تو اندریں صورت وہ فیصلہ قائم نہ رہے گا ۔ پس چونکہ مولوی ثنا ء اللہ اس فیصلہ پر رضامند نہ ہوا اور لکھا کہ
۔”یہ تحریر مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے“۔
(اخبار اہل حدیث ۲۶ اپریل ۱۹۰۷ء)
تو وہ دعا” فیصلہ“ نہ رہی ۔ اسی وجہ سے ثناء اللہ نے بھی لکھا تھا کہ :۔ ”یہ دعا فیصلہ کن نہیں ہو سکتی“۔


۔(۹)۔ حضرت اقدس ؑ کا لکھنا کہ” جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں“۔
(مجمو عہ اشتہارات جلد ۳ ص ۵۷۹ اشتہار مرقومہ ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ )
صاف طور پر بتاتا ہے کہ حضرت اس مسودہ مباہلہ کو مکمل اسی صورت میں سمجھتے تھے جب ثنا ء اللہ بھی اس کے نیچے اپنی منظوری لکھدے ۔ ورنہ اگر یکطرفہ دعا ہوتی تو اس کے نیچے ثنا ء اللہ کے لکھنے یا نہ لکھنے کا سوال پیدا نہ ہوتا ۔


۔(۱۰)۔ حضرت اقدس ؑ کا لکھنا کہ ”ا س تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں“۔
(مجموعہ اشتہارات جلد ۳ ص۵۷۹ مرقومہ ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء)
صاف طور پر ثابت کرتا ہے کہ حضرت کا منشاء یہی تھا کہ ثناء اللہ کے ہاتھ سے حضور کی دعا اور اپنی تصدیق دونوں ایک ہی جگہ جمع ہو جائیں ۔ تا مسودہ مباہلہ مکمل ہو کر ثناء اللہ کا خاتمہ کر دے ۔


۔(۱۱)۔ مولوی ثنا ء اللہ خود لکھتا ہے :۔ ”مرز اجی نے میرے ساتھ مباہلہ کا ایک طولانی اشتہار دیا“۔
(مرقع قادیانی دسمبر ۱۹۰۷ء ص ۳)


۔(۱۲)۔” وہ( حضرت مسیح موعودؑ)اپنے اشتہار مباہلہ ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء میں چیخ اٹھا تھا کہ اہل حدیث نے میری عمارت کو ہلا دیا ہے“۔
(اہل حدیث ۱۹ جون ۱۹۰۸ء )


۔(۱۳)  حضورؑ  لکھتے ہیں:۔
۔ ”میں جانتا ہوں کہ مفسداور کذاب کی بہت عمرنہیں ہوتی اورآخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہو جاتا ہے“ ۔
اور ہم ابھی حضرتؑ  کے مفلوظات (ازالحکم ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۷ء) سے دکھا چکے ہیں کہ یہ اصل صرف اور صرف مباہلہ ہی کی صور ت میں ہوتا ہے۔


۔(۱۴) حضرت اقدسؑ  نے اپنے اس اشتہار میں جو انجام جھوٹے کا تحریر فرمایا ہے وہ بعینہ وہی ہے جو انجام آتھم میں حضرت نے جھوٹا مباہلہ کرنیوالے کا تحریر فرمایا ہے ۔
  (انجام آتھم ص ۲۵ تا ص ۷۲ نیز دیکھیں ص ۱۶۵)


۔(۱۵)۔ مولوی ثناء اللہ لکھتا ہے:
۔” مرزائیو ! کسی نبی نے بھی اس طرح اپنے مخالفوں کو اس طریق سے فیصلہ کے لئے بلایا ہے ؟ بتلاؤ تو انعام لو“ ۔
(اہلحدیث ۲۶ اپریل ۱۹۰۷ء)
اگر حضور ؑ کا اشتہار ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء
(مجمو عہ اشتہارات جلد۳ ص ۵۷۹)
محض یک طرفہ بد دعا تھی تو یہ کوئی ایسی بات نہیں جو پہلے انبیاء میں نہ ملتی ہو اور جس کا ثناء اللہ کو انکار ہو جیسا کہ وہ لکھتا ہے :۔
۔ ”اس قسم کے واقعات بیشمار ملتے ہیں جن میں حضرا ت انبیاءؑ  نے مخالفوں پر بد دعائیں کیں“ ۔
(روئداد مباحثہ لدھیانہ ص ۶۷)
پس مولوی ثناء اللہ کے مطالبہ کا مطلب صرف یہی ہے کہ انبیاء جب مباہلہ کے لئے بلاتے ہیں تو پہلے اپنے مخالفوں کی منظور ی لے لیتے ہیں ۔ یہاں پر حضرت نے ثناء اللہ کی بغیر منظوری کے اس کو شائع کر دیا ۔ پس ثناء اللہ اس طریق کار کی مثال مانگتاتھا نہ کہ محض بد دعا کی ۔ کیونکہ اس کے لئے منظوری کی ضرورت نہیں ۔






ثنائی عذرات
ثناء اللہ کوعذر ہے کہ مباہلہ کے لئے یہ شرط تھی کہ حقیقة الوحی شائع ہونے اور ثناء اللہ کو بذریعہ رجسٹری بھیجنے کے بعد مباہلہ ہو گا۔ اب حضرت اقدسؑ  نے حقیقة الوحی کے چھپنے سے قبل ہی اس کو کیوں شائع کرد یا ؟
سو اس کا جواب یہ ہے کہ ثناء اللہ نے اخبار اہل حدیث ۲۹ مارچ ۱۹۰۷ء میں جب چیلنج مباہلہ دیا تو حضرت نے اس کو مہلت دینا ہی پسند فرمایا کہ ”باوجود اس قدر شوخیوں اور دلآزاریوں کے جو ثنا ء اللہ سے ہمیشہ ظہور میں آتی ہیں حضرت اقدسؑ  نے پھر بھی رحم کر کے فرمایا ہے کہ یہ مباہلہ چند روز کے بعد ہو جبکہ ہماری کتاب حقیقہ الوحی چھپ کر شائع ہو جائے ۔
(بد ر ۴ اپریل ۱۹۰۷ء ص ۴ کالم نمبر ۲ )
لیکن چونکہ ثناء اللہ نے ۱۹ اپریل ۱۹۰۷ء ص ۴ کے اہل حدیث میں پھر فرار اختیار کر لینا تھا (جس کا حوالہ اوپر ذکر ہو چکا ہے ص ۴۸۲)اور خدا تعالیٰ کو اس کا علم تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۵ اپریل ہی کو اس کے فرار کے شائع ہونے سے پہلے ہی دعا مباہلہ لکھنے کی ہدایت فرما دی ، چنانچہ حضرت فرماتے ہیں:۔
۔” ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خداہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے “۔
(بد ر ۲۵ اپریل ۱۹۰۷ء ص ۷ کالم نمبر ۲)
حضرت اقدس ؑ کا ثناء اللہ سے کوئی” معاہدہ“ نہ تھا کہ حقیقة الوحی چھپنے تک مباہلہ نہ ہو گا ۔ یہ صرف حضور کا اپنا ارادہ تھا بوجہ رحم کے ثنا ء اللہ نے اس تجویز کی منظوری کااعلان نہیں کیا تھا کہ وہ” معاہدہ“ کی صورت اختیار کر لیتا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت کے ارادہ کو( بوجہ اس فرار کے جو ثناء اللہ کرینوالا تھا) بد ل د یا۔ اس با ت کا ثناء اللہ کے لئے کوئی فرق نہ تھا کہ مباہلہ حقیقة الوحی کے چھپنے سے قبل ہو یا بعد میں ۔ کیونکہ وہ تو ۲۹ مارچ ۱۹۰۷ء ص۱۰ کے اہل حدیث میں مباہلہ پرآمادگی ظاہرکر چکا تھا ۔ اب مباہلہ حقیقة الوحی کے چھپنے سے قبل ہو یا بعد میں یہ حضر ت کی مرضی پر موقوف تھا ۔ حضورؑ کا ارادہ کتاب کے چھپنے کے بعد مباہلہ کرنے کا تھا ، تا ثناء اللہ کو ایک اور موقعہ دیا جائے ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ثناء اللہ کی بد نیتی کو دیکھ کر فورا حضرت کے ارادہ کو بدل دیا پس ثناء اللہ کا اعتراض کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔






ایڈیٹر صاحب بد ر کی تحریر 
باقی رہا مولوی ثنا ء اللہ کا یہ کہنا کہ بدر ۱۳ جون ۱۹۰۷ء ص ۲ کالم ۱ میں ایڈیٹر صاحب بدر نے لکھا ہے کہ مباہلہ قرار نہیں پایا ، تو اس کا جواب یہ ہے ۔
۔(الف) مولوی ثنا ء اللہ خود مانتا ہے کہ یہ تحریر ایڈیٹر صاحب بدر کی اپنی ہے ۔چنانچہ وہ لکھتا ہے ”بے نور بد رکے ایڈیٹر نے کمال ایمانداری سے اپنا جواب تو شائع کر دیا “۔
(مرقع قادیانی نومبر ۱۹۰۷ء ص ۲۲۲)


۔(ب) ۔ خود ایڈیٹر صاحب مفتی محمد صادق صاحب نے اخبار بدر کا بیان ہے کہ یہ تحریر ان کی اپنی طرف سے تھی ، حضور (مسیح موعودؑ )کے حکم یا علم سے نہیں لکھی گئی، جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:۔
۔”اخبار بد ر مورخہ ۱۳ جون ۱۹۰۷ء ص ۲ کالم نمبر ۱ میں جو نوٹ بعنوان نقل’’ خط بنام مولوی ثناء اللہ صاحب“ شائع ہو اہے ، یہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کے مطالبہ حقیقة الوحی کا جواب ہے جو میں نے خودلکھا تھا اور یہ میرے ہی الفاظ ہیں ۔کیونکہ حضرت اقدس ؑ نے اس کے متعلق کوئی ہدایت نہ دی تھی ، میں نے اپنی طر ف سے جواب لکھ دیا تھا اس بیان کی اشاعت مناسب ہے تاکہ کوئی شخص اس نوٹ کو حضر ت ؑ کی طرف منسوب کر کے مغالطہ نہ دے سکے“۔
(تجلیات رحمانیہ ص ۱۷۴ بار اول ازقلم ابو العطا ء اللہ دتہ جالندھری مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۱ء )
جیسا کہ ہم اوپر ثابت کر چکے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس اشتہار کو دعائے مباہلہ سمجھتے ہیں اور خود مولوی ثناء اللہ بھی اس کو دعائے مباہلہ ہی قرار دیتاتھا تو اس کے بالمقابل ایڈیٹر صاحب بد ر کی تحریر حجت نہیں ہو سکتی ، جیسا کہ خود اہلحدیث کے مقابلہ میں کسی صحابی بلکہ حضرت علیؓ  کی تفسیر تک کو نہیں مانتے ۔
(اہل حدیث ۲ اکتوبر ۱۹۳۱ء ص ۱۲ کالم ۱ زیر عنوان اقتداء اہل حدیث )






حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓ کی تحریر
۔(۱) مولوی ثناء اللہ یہ کہا کرتا ہے کہ حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ  نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے موقعہ پر جو مضمون” محمود اور خدائی مسیح کے دشمنوں کا مقابلہ“ بعنوان” صادقوں کی روشنی“ شائع کیا اس میں لکھا ہے کہ ”یہ دعا دعائے مباہلہ نہیں تھی ۔ اب تم کیوں اس کو مباہلہ کی دعا قرار دیتے ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ صریحا دھوکہ ہے ۔ حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ اشتہار” آخری فیصلہ“ دعائے مباہلہ نہ تھا ۔ کیونکہ مباہلہ تو اس صور ت میں ہو تا کہ ثناء اللہ بھی بالمقابل قسم کھاتا یا دعا کرتا ۔ مگر چونکہ اس نے بالمقابل دعا نہیں کی اس لئے مبا ہلہ نہیں ہو ا۔حضرت خلیفة المسیح الثانی نے اسی مضمون میں صفائی اور صراحت کے ساتھ اس مجوزہ طریق کار کو ”مباہلہ “قرار دیا ہے اور پھر ثناء اللہ کے انکار کا ذکر کر کے فرمایا ہے کہ مباہلہ نہیں ہوا ۔چنانچہ چند اقتباسات اس مضمون سے یہاں درج کئے جاتے ہیں ۔ ۱ ۔” یہ ایک فیصلہ کا طریق تھاجس سے جھوٹے اور سچے میں فرق ہو جائے اور اس کی غرض سوائے اس کے کچھ نہ تھی کہ حق اور باطل میں کچھ ایساامتیاز پیدا ہو جائے کہ ایک گروہ بنی نوع انسان کا واقعات کی تہ تک پہنچ جائے اور شرافت اور نیکی کا مقتضا یہ تھا کہ مولوی ثناء اللہ اس دعا کو پڑھ کر اپنے اخبار میں شائع کر دیتا کہ ہاں مجھ کو یہ فیصلہ منظور ہے مگر جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں اس کو سوائے ہوشیار ی اور چالاکی کے اور کسی بات سے تعلق ہی نہیں ۔ اور اگر وہ ایسا کرتا تو خدا تعالیٰ اپنی قدرت دکھلاتا اور ثناء اللہ اپنی تمام گندہ دہانیوں کا مزہ چکھ لیتا اور اسے معلوم ہو جاتا کہ ایک ذات پاک ایسی بھی ہے جو جھوٹوں اور سچوں میں فرق کر دکھلا تی ہے اور وہ جو بدی اور بدذاتی کرتا ہے اپنے کئے کی سزا کو پہنچتا ہے اور شریر اپنی شرارت کی وجہ سے پکڑ ا جاتاہے ۔ مگر جبکہ بر خلاف اس کے اس نے اس فیصلہ سے بھی انکار کیاا ور لکھ دیا کہ مجھ کو یہ فیصلہ منظور نہیں تو آج جبکہ حضرت صاحب فوت ہو گئے ہیں اس کا یہ دعوی کرنا کہ میرے ساتھ مباہلہ کرنے کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں اور یہ میر ی سچائی کی دلیل ہے ، کہاں تک انصاف پر مبنی ہے “۔
۔(تشحیذالاذہان جلد ۳ نمبر ۶ ، ۷ ص ۵۸ ، ص ۵۹ بابت ماہ جون ، جولائی ۱۹۰۸ء زیر عنوان محمود اور محمدی مسیح کے دشمنوں کا مقابلہ باب دوم مولوی اللہ امرتسری)۔


۔(۲)۔ ”یہ جان بوجھ کر حضرت کی وفات کو اس دعا کی بناء پر قرار دیتا ہے کیونکہ باوجود اقرار کرنے کے کہ میں نے انکار کر دیا تھا پھر اپنی سچائی ظاہر کرتا ہے ۔ کیا یہ اتنی بات سمجھنے سے بھی قاصرہے کہ اس مباہلہ یا دعا کی ضرورت تو سچے اور جھوٹے کے فیصلہ کے لئے تھی“۔
(ایضا ص۶۳)


۔(۳)۔” اس وقت تو سچائی کے رعب میں آکر اس نے حیلہ بازی سے اپنا سر عذا ب الٰہی کے نیچے سے نکا لنا چاہا ۔ مگر جب کہ اس کے انکار مباہلہ سے وہ عذاب اور طرح سے بد ل گیا تو اس نے اس منسوخ شدہ فیصلہ کو پھر دوہرانا شروع کر دیا“ ۔
(ایضا ص ۶۴)
مندرجہ بالا تینوں اقتباسات سے صاف طور پر عیاں ہے کہ حضر ت خلیفة المسیح الثانی ؓ نے اشتہار ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء کو مسودہ اور دعائے مباہلہ ہی قرار دیا ہے اور ثناء اللہ کے انکار کو انکار مباہلہ کے لقب سے موسوم کیا ہے ۔ پس ثناء اللہ کا یہ کہنا کہ حضرت ؑ نے اس کو دعائے مباہلہ قرار نہیں دیا سر تاسر دھوکہ ہے ۔


چنانچہ حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓ نے حافظ محمد حسن مرحوم اہل حدیث لاہور کے مطالبہ کے جواب میں مندرجہ ذیل حلفی بیان دیا:۔
۔”میں خدا کو حاضر ناظر جان کر شہادت دیتا ہوں کہ مجھے کامل یقین ہے کہ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقا بلہ پر اس اعلان کے مطابق آتے جو آپ نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے خلاف ۱۹۰۷ء میں کیا تھا تو وہ ضرور ہلاک ہوتے اور مجھے یہ یقین ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جو میں نے مضمون لکھا تھا اس میں بھی لکھ چکا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ کے متعلق جو کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا تھا وہ دعا مباہلہ تھی پس چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کے مقابل پر دعا نہیں کی بلکہ اس کے مطابق فیصلہ چاہنے سے انکار کردیا وہ مباہلہ کی صورت میں تبدیل نہ ہوئی اور مولوی صاحب عذاب سے ایک مدت کے لئے بچ گئے میری اس تحریر کے شاہد میری کتاب ”صاقوں کی روشنی“ از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسیح الثانی (ایڈیشن اول ۲ جولائی ۱۹۰۸ شائع شدہ) کے یہ فقرات ہیں:۔
۔ ”مگر جب کہ اس کے انکار مباہلہ سے وہ عذاب اور طرح سے بدل گیا تو اس نے منسوخ شدہ فیصلہ کو پھر دہرانا شروع کردیا“۔ نیز” اگر وہ ایسا کرتا تو خداوند تعالیٰ اپنی قدرت دکھلاتا اور ثناء اللہ اپنی گندہ دہانیوں کا مزہ چکھ لیتا“۔
(صادقوں کی روشنی ص۳۰)
غرض میرا یہ ہمیشہ سے یقین ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا دعا مباہلہ تھی لیکن بوجہ اس کے کہ مولوی صاحب نے اس کے قبول کرنے سے انکار کیا وہ دعا مباہلہ نہیں تھی اور اللہ تعالیٰ نے عذاب کے طریق کو بدل دیا “۔
خاکسار مرزامحمود احمد
16.3.1931






جملہ خبریہ
مولوی ثناء اللہ صاحب کہا کرتے ہیں کہ ”آخری فیصلہ“۔
(مجموعہ اشتہارات جلد ۳ ص۵۷۹ از الشرکة الاسلامیة )
کے اشتہار میں سب جملے خبریہ ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اشتہار بطور پیشگوئی کے ہے۔
نیز حضرت کا الہام ہے اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ
(الہام مورخہ ۱۴ اپریل ۱۹۰۷ )
(تذکرہ ص ۸۱ ایڈیشن سوم۱۹۴۹ از الشرکة الاسلامیة )
(مطبوعہ بدر جلد ۶ نمبر ۱۶ ،۱۸ اپریل ۱۹۰۷ ص ۳)
(الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۳ ۱۷اپریل ۱۹۰۷ ص ۲)


۔(۱) اس کا جواب یہ ہے جب حضرت نے اس میں صاف طور پر لکھ دیا ہے کہ ’’ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں محض دعا کے طور پر میں نے فیصلہ چاہا ہے“۔
پھر اس کو کس طرح پیشگوئی قرار دیا جاسکتا ہے؟
پھر ”دعا“ کو”جملہ خبریہ“ قرار دینا بھی ثناء اللہ جیسے”عالم“ کے سوا اور کسی کا کام نہیں کیونکہ”دعا“ کبھی جملہ خبریہ نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ہمیشہ ”جملہ انشائیہ“ہوتا ہے۔


۔(۲)۔ حضرت کا الہام اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ…… اگر فرض کر لیا جائے کہ وہ اس دعا کے متعلق ہے تو پھر بھی کوئی اعتراض نہیں پڑتا کیونکہ جیسا کہ ہم ثابت کر آئے ہیں کہ یہ دعائے مباہلہ تھی جس کا نتیجہ اس صورت میں نکلنا تھا کہ فریقین اس پر متفق ہوجاتے اور اس کی منظوری کے معنی یہی ہوسکتے ہیں کہ اگر فریق ثانی نے اس طریق فیصلہ کو منظور کر لیا تو یقینا یقینا وہ ہلاک ہوجائے گا۔
جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے نجران کے مفرور عیسائیوں کے متعلق فرمایا کہ ہے:۔ لَمَّا حَالَ الْحَوْلُ عَلَی النَّصَارٰی کُلُّھُمْ حَتّٰی یُھْلِکُوْا
(تفسیر کبیر للامام الفخر الرازی ص۸۵ جلد۸ مصری نیا آیڈیشن ۱۹۳۸ زیرآیت نمبر۶۲ سورة اآل عمران ص ۶۹۹)
گویا آنحضرت ﷺ کی طرف سے جو دعا لَعْنَتُ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ (آل عمران ۶۲) قرآن مجید میں مذکور ہے اس کو اللہ تعالی نے قبول فرمالیا اور اگر عیسائی ا س طریق فیصلہ کو منظور کرلیتے تو وہ یقینا یقینا ہلا ک ہوجاتے۔




لطیفہ ثناء اللہ:۔ آپ لوگ تو مجھ کو ابو جہل کہا کرتے ہیں خدا نے مرزا صاحب کی دعا کے اثر کو ابو جہل کی خواہش کے مطابق کیوں بدل دیا؟ ابو جہل تو آنحضرت ﷺ سے پہلے مر گیا تھا۔
احمدی:۔اگر یہ محض دعا ہوتی تو نہ ٹلتی ۔وہ دعائے مباہلہ تھی جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق سچے کے بالمقابل جھوٹے فریق کی منظوری بھی ضروری ہے( جس کی تفصیل اوپر مذکورہے) لیکن ابو جہل اول نے تو بدعا کی تھی کہ اے اللہ اگر آنحضرت سچے ہیں تو مجھ کو ہلاک کر ۔اس سے وہ ہلاک ہوگیا تم بھی ذرا اسی قسم کی بد دعا کرو ،پھر اگر بچ جاوٴ تو ہم تمہیں ”ابو جہل“ نہیں کہیں گے۔ تم” ابوجہل“ کے لقب پر فخر کیا کرتے ہو ذرا ابوجہل کی مماثلت کو پورا بھی کرو تو بات ہے ۔بدعا کر کے پھر بچ کر یہ ثابت کیوں نہیں کر دیتے کہ درحقیقت تم ابو جہل نہیں ہو؟






ایک اور ثبوت
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات تک مولوی ثناء اللہ اشتہار آخری فیصلہ کو ”دعاء مباہلہ“ اور” مسوہ مباہلہ“ ہی سمجھتا رہا۔ چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے جب ۱۵ اپریل۱۹۰۷ (تاریخ دعا) سے ایک سال کا عرصہ گذر گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے چند دن پہلے اپنے ایک مضمون میں جو مرقع قادیانی میں پہلی جون کو چھپا لکھتا ہے:۔
۔ ”مرزائی جماعت کے جوشیلے ممبرو ! اب کس وقت کے منتظر ہو۔ تمہارے پیر مغاں کی مقررکردہ مباہلہ کی میعاد کا زمانہ تو گذر گیا“۔
(مرقع قادیانی یکم جون۱۹۰۸ص۱۸)
گویا وہ اس اشتہار کو دعا مباہلہ ہی قرار دیتا ہے مگر کہتا ہے کہ دیکھ لو میں ایک سال میں نہیں مرا اور نہ مرزا صاحب فوت ہوئے ۔لہٰذا وہ دعا بے اثر گئی لیکن جب بعد ازاں حضورؑ  فوت ہوگئے تو جھٹ کہنے لگ گیا کہ مباہلہ کے نتیجہ میں مرزا صاحب فوت ہوئے ہیں۔ اس پر جب اسے پکڑا گیا کہ مباہلہ تو اس صورت میں ہوتا کہ تم بھی اس کا اقرار کر کے بددعا کرتے تو (اپنی غلطی محسوس کرتے ہوئے) جھٹ پینترا بدلا ۔اور اب یہ کہتا ہے کہ وہ مباہلہ کی دعا نہیں تھی بلکہ یک طرفہ دعا تھی ۔
سچ ہے جیسا کہ حضرت فرماتے ہیں:۔
بدگمانی نے تمہیں مجنون واندھا کردیا
ورنہ میری صداقت پر براہیں بیشمار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۱ )
( درثمین اردو ص۱۲۰)





Sects in Islam Vs Sects in Jews

A number of lists are seen in the literature [60-62] giving the names of the sects. Two I used to produce the following list are those of Islamic encyclopedia published by Munshi Mehboob 'Alim [60] and that of abu-Mansur al-Baghdadi [61]. Abu-Mansur al-Baghdadi's list was produced around 10th century AD and he has included an number of political movement as separate sects. Such movements differed from each other on the question of leadership and had no theological differences and thus I believe that can not be considered as independent sect, so in my list I have not included such political movements as independent sects. On the other hand Munshi Mehboob 'Alim has included in his list, sects which rejects some of the fundamental beliefs of Islam while abu-Mansur al-Baghdadi does not consider them to be a part of Islam. For example Ghullat and all its subsects believe in the divinity of Ali, Zanadiqiyahs and some other sects do not believe in the Day of Judgement etc. While preparing the following list I agree with Baghdadi and do not include such sects. Finally, Munshi Mehboob 'Alim has listed two sects 'Aliviyah and Ajariyah distinguishing between them on the basis that one believes in the prophethood of Ali while the other one believes that Ali was a partner in prophethood. I consider these two to be one sect. Other than the above mentioned differences the two lists I used are identical except the fact that Munshi Mehboob 'Alim divides the whole Ummah into six major branches i.e. 1.Rafidiya, 2.Kharijiya, 3.Jabariyah, 4.Qadriyah, 5.Jahmiyah and 6. Marjiyah. While abu-Mansur list the sects of Jahmiyah under the main class Marjiyah and Jabariyah under the Qadriya, thus dividing the Ummah into only four major classes, i.e. 1.Rafidiyah, 2.Kharijiya, 3.Qadriya and 4. Marjiyah. The only other difference found is that the two authors sometimes use different names for the same sect which becomes clear while looking at the beliefs associated to them. This I believe is because the two authors resided in different regions (one in Arabia the other in Indo-Pak subcontinent) at different times so perhaps the same sects may have been known with different names in different regions. I have tried to include various names given to the same sect by both authors where ever possible.
Name of the Sect Basic Belief Distinguishing it from Others
1.Jarudiyah Followers of Abu'l-Jarud, They believe Prophet (pbuh) designated Ali (ra) as the Imam by his characteristics but not by name.
2. Sulaimaniah / Jaririyah Followers of Sulaiman ibn-Jarir al-Zaidi, They believed Imamat was a matter of conference and could be confirmed by two best Muslims.
3. Butriyah / Hurariyah They did not dispute the Khilafat of Uthman, neither they attack him nor praise him.
4. Yaqubiyya They accepted the Khilafat of Abu Bakr and Umar, but did not reject those who rejected these Khulafaa. They also believed that Muslim committers of Major sins will be in hell fire forever.
5. Hanafiyah Followers of the Imammate of Muhammad ibn-al-Hanifah. They believe that Allah might have had a beginning.
6. Karibiyah They believed that Imam Muhammad ibn-al-Hanifah is not dead and is the Imam Ghaib (in disappearance) and the expected Mahdi.
7. Kamiliyah Followers of abu-Kamil. They believed companions to be heretic because they forsook their allegiance to Ali and condemn Ali for ceasing to fight them. They believed in the returning of the dead before the Day of Resurrection and that Satan is right in preferring fire to clay.
8. Muhammadiyyah / Mughairiyah Followers of Muhammad ibn-'Abdullah ibn-al-Hassan. They do not believe that Imam Muhammad ibn-'Abdullah died and that he is Imam Ghaib and awaited Mahdi.
9. Baqiriyah Followers of Muhammad ibn-'Ali al-Baqir. They believe him to be the Imam Ghaib and expected Mahdi.
10. Nadisiyah They believe that those who consider themselves better than anyone else are Kafirs (disbelievers).
11. Sha'iyah They believe that the one who has recited La Ilaha Il-Allah (There is none worthy of worship except Allah), whatever she or he does, will never be punished.
12. Ammaliyah They believe that faith for one is what he/she sincerely practices.
13. Ismailiyah They believe in the continuity of Imammate among the descendants of Ismail ibn-Ja'far.
14. Musawiyah / Mamturah They believe Musa ibn-Ja'far to be the Imam Ghaib and expected Mahdi.
15. Mubarikiyah They believe in the continuity of Imammate among the descendants of Muhammad ibn-Ismail ibn-Ja'far.
16. Kathiyah / Ithn 'Ashariya (the Twelvers) They believe that expected Mahdi will be the twelveth Imam among the descendants of 'Ali ibn-abi-Talib.
17. Hashamiya / Taraqibiyah They Predicate a body to Allah and also allege Prophet (pbuh) of disobedience to Allah.
18. Zarariyah They believed that Allah did not live nor had any attributes till He created for Himself life and His attributes.
19. Younasiyah Followers of Younas ibn-'Abd-al-Rahman al-Kummi. They believe that Allah is borne by bearers of His Throne, though He is stronger than they.
20. Shaitaniyah / Shireekiyah They believed in the view that deeds of servants of Allah are substances; and a servant of Allah can really produce a substance.
21. Azraqiah Followers of Nafi ibn-al-Azraq. They do not believe in the good dreams and vision and claim that all forms of revelation has ended.
22. Najadat Followers of Najdah ibn-'Amir al-Hanafi. They abolished the punishment for drinking wine also they believed that sinners of this sect would not be treated in hellfire but some other place before allowed in paradise.
23. Sufriyah Followers of Ziyad ibn-al-Asfar. They believed that sinners are in fact polytheists.
24. Ajaridah Followers of Abd-al-Karim ibn-Ajrad. They believed that a child should be called to Islam after it has attained maturity. Also they believed booty of war to be unlawful till the owner is killed.
25. Khazimiyah They believe Allah loves men of all faiths even if one has been disbeliever most of his life.
26. Shuaibiyah / Hujjatiyah They believe that what Allah desires does happen no matter what and what does not happen it means Allah desires it not.
27. Khalafiyah Followers of Khalaf. They do not believe in fighting except under the leadership of an Imam.
28. Ma'lumiyah / Majhuliyah They believed that whoever did not recognize Allah by all His names was ignorant of Him and anyone ignorant of Him was a disbeliever.
29 Saltiyah Followers of Salt ibn-Uthman. They believed in the conversion of adults only and if father has converted to Islam children were considered disbeliever till they reach maturity.
30. Hamziyah Followers of Hamza ibn-Akrak. They believe that children of polythiests are condemned to hell.
31. Tha'libiyah Followers of Tha'labah ibn-Mashkan. They believe that parents remain guardian over their children of any age until children make it clear to parents that they are turning away from truth.
32. Ma'badiyah They did not believe in taking or giving alms from or to slaves.
33. Akhnasiyah They do not believe in waging a war except in defense or when the opponent is known personally.
34. Shaibaniyah / Mashbiyah Followers of Shaiban ibn-Salamah al-Khariji. They believe Allah resembles His creatures.
35. Rashidiyah They believe that land watered by springs, canals or flowing rivers should pay half the Zakat (Tithe), while land watered by rain only should pay the full Zakat.
36. Mukarramiyah / Tehmiyah Followers of abu-Mukarram. They believe that ignorance constitutes as disbelief. Also that Allah enmity or friendship depends upon the state of a persons belief at his death.
37. Ibadiyah / Af'aliyah Consider Abdullah ibn-Ibad as their Imam. They believe in doing good deeds without the intention of pleasing Allah.
38. Hafsiyah Consider Hafs ibn-abi-l-Mikdam as their Imam. They believe that only knowing Allah frees one from polytheism
39. Harithiya Followers of Harith ibn-Mazid al-Ibadi. They believe that the ability precedes the deeds.
40. Ashab Ta'ah They believe that Allah can send a prophet without giving him any sign to prove his prophecy.
41. Shabibiyah / Salihiyah Followers of Shabib ibn-Yazid al-Shaibani. They believe in the Imamate of a woman named Ghazalah.
42. Wasiliyah Followers of Wasil ibn-'Ata al-Ghazza. They believe that those who commit major sins will be punished in hell but still remain believers.
43. 'Amriyah Followers of 'Amr ibn-Ubaid ibn-Bab. They reject the legal testimony of people from supporters of either side of the battle of Camel.
44. Hudhailiyah / Faniya Followers of abu-al-Hudhail Muhammad ibn-al-Hudhail. They believe that both Hell and Paradise will perish and that preordination of Allah can cease, at which time Allah will no longer be omnipotent.
45. Nazzamiyah Followers of abu-Ishaq Ibrahim ibn-Saiyar. They do not believe in the miraculous nature of the Holy Quran nor do they believe the miracles of Holy Prophet (pbuh) like splitting the moon.
46. Mu'ammariyah They Believe that Allah neither creates life nor death but it is an act of the nature of living body..
47. Bashriyah Followers of Bashr ibn-al-Mu'tamir. They believe that Allah may forgive a man his sins and may change His mind about this forgiveness and punish him if he is disobedient again.
48. Hishamiyah Followers of Hisham ibn-'Amr al-Futi. They believe that if a Muslim community come to consensus it need an Imam and if it rebels and kills its Imam, no one should be chosen an Imam during a rebellion.
49. Murdariyah Followers of Isa ibn-Sabih. They believe that staying in close communication with the Sultan (ruler) makes one unbeliever.
50. Ja'friyah Followers of Ja'far ibn-Harb and Ja'far ibn-Mubashshir. They believe that drinking raw wine is not punishable and that punishment of hell could be inferred by a mental process.
51. Iskafiyah Followers of Muhammad ibn-Abdallah al-Iskafi. They believe that Allah has power to oppress children and madmen but not those who have their full senses.
52. Thamamiyah Followers of Thamamah ibn-Ashras al-Numairi. They believe that he whom Allah does not compel to know Him, is not compelled to know and is classed with animals who are not responsible.
53. Jahiziayh Followers of 'Amr ibn-Bahr al-Jahiz. They believe that Allah is able to create a thing but unable to annihilate it.
54. Shahhamiyah / Sifatiyah Followers of abu-Yaqub al-Shahham. They everything determined is determined by two determiners, one the Creator and the other acquirer.
55. Khaiyatiyah / Makhluqiyah Followers of abu-al-Husain al-Khaiyat. They believe that everything non-existant is a body before it appears, like man before it is born is a body in non-existance. Also that every attribute becomes existant when it makes its appearance.
56. Ka'biyah Followers of abu-Qasim Abdullah ibn-Ahmad ibn-Mahmud al-Banahi known as al-Ka'bi. They believe that Allah does not see Himself nor anyone else except in the sense that He knows Himself and others.
57. Jubbaiyah Followers of abu-'Ali al-Jubbai. They believe that Allah obeys His servants when He fulfill their wish
58.Bahshamiyah Followers of abu-Hashim. They believe that one who desires to do a bad deed, though may not do it, commits infidelity and deserves punishment.
59. Ibriyah. They believe that Holy Prophet (pbuh) was a wise man but not a prophet.
60. Muhkamiyah They believe that God has no control over His creations.
61. Qabariyya They do not believe in the punishment of grave.
62. Hujjatiya They do not believe in the punishment for deeds on the grounds that because everything is determined so whatever one does s/he is not responsible for it..
63. Fikriyya They believe that doing Dhikr and Fikr (Remembering and thinking about Allah) is better than worship.
64. 'Aliviyah / Ajariyah They believe that Hadhrat Ali share prophethood with Muhammad (pbuh).
65. Tanasikhiya They believe in the re-incarnation of soul.
66. Raji'yah They believe that Hadhrat Ali ibn-abi-Talib will return to this world.
67. Ahadiyah They believe in the Fardh (obligations) in faith but deny the sunnah.
68. Radeediyah They believe that this world will live forever.
69. Satbiriyah They do not believe in the acceptance of repentance.
70. Lafziyah They believe that Quran is not the word of God but only its meaning and essence is the word of God. Words of Quran are just the words of narrator.
71. Ashariyah The believe that Qiyas (taking a guess) is wrong and amounts to disbelief.
72. Bada'iyah They believe that obedience to Ameer is obligatory no matter what he commands.

Jewish Sects at the Time of Jesus (AS)
The literature available on the Jewish sects of the time of Jesus (AS) does not as such has a compiled list of all the sects. Definition of a sect varies from author to author. Some authors will regard a group to be too small for their criteria of a sect while the other include them as a sect. However, all of them acknowledge the existance of all the sects and sub-sect, mentioned in the following list, at the time of Jesus Christ (AS). This list has been compiled from the works of authors mentioned in the reference numbers 57-59.
1. Pharisees 2. Sadducees
3. Essenes/Ossenes 4. Party of Covanent
5. Karaites 6. Zealots
7. Therapeutae 8. Kabbalah
9. Qumranites 10. Hasmoneans
11. Amme ha 'arez 12. Yahwists
13. Rechabites 14. Nazerites
15. Hellenists (Followers of Stephen) 16. Maccabees
17. Hasideans 18. Eleazarites
19. Hyrcanusites 20. Epicureans
21. Stoics 22. Pythagoreans
23. Zadokites 24. Enochites
25. Zakaites 26. Beth Hillel
27. Beth Shammai 28. Followers of Bar Cochba
29. Habakkukites 30. Ebionites
31. Levites 32. Ezekielites
33. Herodians 34. Scribes (Soferims)
35. Galileans 36.Hemerobaptists
37. Baptists 38. Masbothei
39. Genistae 40. Meristae
41. Hellenians (Followers of Hellene) 42. Nasaraioi
43. Introversionists 44. Alexanderian Jews
45. Philos 46. Hezekiah
47. Josiah 48. Canaanites
49. Samaritans 50. Aaronides
51. Gnostic Jews of Qumran 52. Boethusians
53. Conversionists 54. Josianic Movement
55. Babylonian Jews 56. Elephantinites
57. Oniasites 58. Judeans
59. Ein Fashka 60. Antiochusians
61. Selecudins 62. Sicarii
63. Zedekiahs 64.Followers of Simon Bar Giora
65. Followers of John of Giscala 66. Followers of Simon Bar Kosiba
67. Patriarchate 68. Apocalypticians
69. Shabbatai Zevi Movement 70. Adventists
71. Epiphanesians 72. Palestanian Jews